وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کر کے عوام کو ایک بار پھر ممکنہ ریلیف سے محروم کر دیا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی میں 4 روپے 65 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول پر لیوی 79 روپے 62 پیسے سے بڑھ کر 84 روپے 27 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل پر لیوی میں 80 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی 75 روپے 41 پیسے سے بڑھ کر 76 روپے 21 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ دستاویزات کے مطابق اگر لیوی برقرار رکھی جاتی تو پیٹرول 4 روپے 65 پیسے اور ڈیزل 80 پیسے فی لیٹر سستا ہو سکتا تھا۔مزید بتایا گیا ہے کہ مٹی کے تیل پر بھی پیٹرولیم لیوی میں 1 روپے 41 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد لیوی 18 روپے 95 پیسے سے بڑھ کر 20 روپے 36 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ لائٹ ڈیزل آئل پر پیٹرولیم لیوی کی شرح 15 روپے 84 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔لیوی میں اضافے کے بعد پیٹرول پر مجموعی ٹیکسوں کی شرح بڑھ کر 105 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر ٹیکس 100 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گیا ہے، جس میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کا مارجن بھی شامل ہے۔ تاہم پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس کی شرح بدستور صفر برقرار رکھی گئی ہے۔