بحرین کا سالِ نو پر عوام کے لیے بڑا تحفہ مالیاتی اصلاحات کا خصوصی پیکیج متعارف

سال نو کے آغاز پر بحرین نے عوام کو بڑا سرپرائز دیتے ہوئے مالیات کے شعبے میں ایک جامع اصلاحاتی پیکیج متعارف کرا دیا ہے، جس کا مقصد عوامی مالیات کو مضبوط بنانا اور طویل المدتی اقتصادی استحکام کو یقینی بنانا ہےمقامی نیوز ایجنسی کے مطابق بحرین حکومت نے یہ اصلاحاتی پیکیج عوامی اخراجات پر قابو پانے، آمدنی کے نئے ذرائع پیدا کرنے اور شہریوں کے لیے ضروری سبسڈی کے تحفظ کے لیے متعارف کرایا ہے۔اس مالیاتی اصلاحاتی پیکیج میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، بعض زمروں کے لیے بجلی اور پانی کے نرخوں میں اضافہ، اور سرکاری اداروں سے زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔اس حوالے سے بحرین کی کابینہ نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ شہریوں کی بنیادی رہائش گاہوں میں استعمال ہونے والے بجلی اور پانی پر دی جانے والی سبسڈی کے طریقہ کار میں کسی بھی قسم کی تبدیلی مزید مطالعات مکمل ہونے تک مؤخر کر دی جائے گی۔ کابینہ نے واضح کیا ہے کہ شہریوں کی بنیادی رہائش گاہوں کے لیے پہلے اور دوسرے ٹیرف بینڈ میں بجلی اور پانی کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔دوسری جانب، کابینہ نے دیگر زمروں کے لیے یوٹیلیٹی کھپت کے ٹیرف میں ترامیم کی منظوری دے دی ہے جن پر عمل درآمد جنوری 2026 سے شروع ہوگا۔مجوزہ اصلاحات کے تحت سالانہ BD1 ملین یا BD200,000 سے زائد خالص منافع حاصل کرنے والی کمپنیوں پر 10 فیصد کارپوریٹ انکم ٹیکس عائد کیا جائے گااس کے علاوہ بحرین حکومت کاروباری اداروں کے لیے قدرتی گیس کی قیمتوں میں اضافے اور حکومتی انتظامی اخراجات میں 20 فیصد کمی کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہےیہ اصلاحات بحرین کے اقتصادی وژن 2030 سے ہم آہنگ ہیں جن کا مقصد مالیاتی نظم و ضبط کو مضبوط بنانا، تیل کے علاوہ آمدنی کے ذرائع کو فروغ دینا اور شہریوں کو غیر ضروری مالی دباؤ سے محفوظ رکھتے ہوئے پائیدار اقتصادی ترقی کو یقینی بنانا ہے۔