اسلام آباد ہائیکورٹ نے پولیس کے اختیارات سے تجاوز پر بڑا اور اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے بغیر قانونی پراسس کی گئی گرفتاری کو اغوا قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ جب انصاف کے ساتھ کھلواڑ اور قانونی عمل کا غلط استعمال ہو تو ایسی کارروائی قانوناً کالعدم سمجھی جاتی ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے محمد وقاص، علیم سہیل اور ان کی اہلیہ ثنا سہیل کے خلاف درج مقدمہ خارج کرنے کے کیس کا 16 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جو جسٹس محسن اختر کیانی نے تحریر کیا۔تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ڈی آئی جی اسلام آباد کی رپورٹ کے مطابق ملوث پولیس اہلکاروں کو شوکاز نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ پراسس کا غلط استعمال اور انصاف کے ساتھ کھلواڑ ایک طے شدہ اصول کے تحت کارروائی کو کالعدم قرار دیتا ہے۔عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایف آئی آر کی بنیاد غیر قانونی ہو تو اس کے بعد ہونے والی تمام کارروائی ختم ہونی چاہیے۔ تاہم سپریم کورٹ یہ بھی طے کر چکی ہے کہ کرمنل کارروائی کالعدم قرار دینے کا اختیار محدود ہے اور اسے صرف غیر معمولی حالات میں استعمال کیا جانا چاہیے۔تحریری فیصلے میں لاہور اور بہاولپور سے خاتون اور کمسن بچوں کے مبینہ اغوا کے معاملے، سابق سی ای او پی آئی اے مشرف رسول کے شہری محمد وقاص اور علیم سہیل کے ساتھ مالی لین دین کے تنازعے کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس پر عدالت نے حکم جاری کیا۔عدالت نے محمد وقاص علیم سہیل، ثنا سہیل اور ارحم وقاص کے خلاف درج مقدمہ نمبر 653/25 تھانہ ترنول اسلام آباد میں پولیس مقابلے اور دیگر دفعات کے تحت درج مقدمہ خارج کر دیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئی جی اسلام آباد کو مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیتے ہوئے ہر اہلکار پر ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا، جو بطور تلافی ثنا سہیل کو ادا کیا جائے گا۔عدالت نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ خاتون کے ساتھ لائی گئی ملکیتی گاڑیاں، نقد رقم اور زیورات فوری طور پر واپس کیے جائیں، جبکہ لاہور پولیس کو خاتون اور بچوں کے اغوا کے کیس میں ملزمان کے خلاف میرٹ پر تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔دالت نے آئی جی اسلام آباد کو فیصلے پر عملدرآمد کر کے 30 روز میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔