مٹھو میاں کے نام سے مشہور خوبصورت طوطا، جو انسانی آواز کی ہوبہو نقل کرنے اور میٹھی بولی کی وجہ سے گھروں کی زینت بنتا ہے، اب باآسانی نہیں پالا جا سکے گا۔تفصیلات کے مطابق حکومت پنجاب نے ایک نیا قانون متعارف کرایا ہے جس کے تحت گھروں میں طوطے پالنے کے لیے باضابطہ لائسنس لینا لازمی ہوگا۔ یہ اقدام طوطوں کی بقا، غیر قانونی شکار اور تجارت کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔محکمہ وائلڈ لائف پنجاب نے اعلان کیا ہے کہ چار اقسام کے طوطوں — الیگزینڈرائن، رنگ روز، سلیٹی اور پلم ہیڈڈ — پر ایک ہزار روپے رجسٹریشن فیس مقرر کی گئی ہے۔ یہاں تک کہ جن افراد نے پہلے سے طوطے پال رکھے ہیں، انہیں بھی رجسٹریشن کروانا ہوگی، بصورت دیگر قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔حکام کا کہنا ہے کہ اس پالیسی سے معدوم ہوتے پرندوں کی صحیح تعداد معلوم کرنے میں مدد ملے گی اور ان کی حفاظت کے لیے مزید اقدامات ممکن ہو سکیں گے۔ ساتھ ہی یہ عندیہ بھی دیا گیا ہے کہ اس قانون میں مزید پالیسی تبدیلیوں پر کام جاری ہے۔