کیوبا میں بڑے پیمانے پر بجلی کا بریک ڈاؤن، لاکھوں شہری تاریکی میں

ہوانا: کیوبا میں ایک بار پھر بڑے پیمانے پر بجلی کا بریک ڈاؤن ہوا ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں شہری بجلی سے محروم ہو گئے ہیں۔ یہ ایک سال کے دوران پانچواں بڑا بریک ڈاؤن ہے، جس سے ملک بھر میں معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں۔بریک ڈاؤن کی تفصیلات وزارت توانائی نے بتایا کہ بجلی کے نظام کا مکمل رابطہ منقطع ہو گیا، جس کا تعلق انتونیو تھرمو الیکٹرک پاور پلانٹ کے غیر متوقع طور پر بند ہونے سے ہو سکتا ہے۔بریک ڈاؤن کے فوری بعد ہوانا بھر میں ٹریفک سگنل بند ہو گئے، اور شہری بنیادی ضروریات خریدنے کے لیے تیزی سے باہر نکلے۔حکومت کی کارروائی وزارت توانائی نے کہا کہ عملہ ایک مائیکرو سسٹم تیار کر رہا ہے جو ضروری خدمات فراہم کرے گا، جس کے تحت سب سے پہلے اسپتالوں اور خوراک تیار کرنے والے کارخانوں جیسے اہم مقامات پر بجلی بحال کی جائے گی۔کیوبا کے وزیر اعظم مینوئل ماریرو نے ریاستی ٹی وی پر خطاب میں عوام سے حکومت پر اعتماد بحال رکھنے کی اپیل کی اور وعدہ کیا کہ بجلی بتدریج بحال کر دی جائے گی۔پس منظر کیوبا پچھلی تین دہائیوں سے شدید معاشی بحران کا شکار ہے، اور بجلی کے نظام میں بار بار خرابی اور ایندھن کی کمی کے سبب ملک میں بجلی کے بلیک آؤٹ معمول بن گئے ہیں۔ مارچ میں دارالحکومت ہوانا کے ایک سب اسٹیشن میں خرابی کے باعث پورے جزیرے میں وقفے وقفے سے بلیک آؤٹ ہوئے، جبکہ گزشتہ سال کے آخر میں مزید تین بڑے بلیک آؤٹ رپورٹ ہوئے تھے۔