کٹھمنڈو کے نوجوان میئر بالندر شاہ: نیپال کا نیا سیاسی ہیرو اور مستقبل کے وزیراعظم کے متوقع امیدوار

نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو کے نوجوان میئر بالندر شاہ (عرف بالن شاہ) ملک کے نئے سیاسی ہیرو کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ 2022 کے بلدیاتی انتخابات میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے کامیابی حاصل کرنے والے بالندر شاہ اب وزارتِ عظمیٰ کے لیے پسندیدہ امیدوار کے طور پر عوام کی نظروں میں ہیں۔ایک حالیہ سروے کے مطابق نیپال کی جنریشن زی کی بڑی تعداد بالندر شاہ کو مستقبل کا وزیراعظم دیکھنا چاہتی ہے۔ سروے میں 74 فیصد نوجوانوں نے ان کے حق میں ووٹ دیتے ہوئے کہا کہ “مستقبل کی قیادت کے لیے بالندر ہمارا پہلا انتخاب ہیں۔”بالندر شاہ کٹھمنڈو کے 15 ویں میئر ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے وہ سول انجینئر اور شوقیہ گلوکار ہیں۔ میئر کے طور پر اپنے دور میں انہوں نے متعدد اصلاحات متعارف کروائیں اور کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی، جو ان کی سب سے بڑی پہچان سمجھی جاتی ہے۔سوشل میڈیا پر نوجوان طبقہ بالندر شاہ کی بھرپور حمایت کر رہا ہے، جبکہ عالمی سطح پر بھی انہیں پہچان مل رہی ہے۔ امریکی جریدے ٹائم میگزین نے 2023 میں بالندر شاہ کو دنیا کی 100 ابھرتی ہوئی شخصیات میں شامل کیا تھا۔ادھر، نیپال میں سیاسی افراتفری کے باعث کٹھمنڈو میں تیسرے روز بھی کرفیو برقرار ہے۔ نیپالی فوج گلیوں اور سڑکوں پر گشت کر رہی ہے اور اب تک 25 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔پُرتشدد احتجاج میں اب تک 22 شہری ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ مظاہرین نے سابق وزیراعظم جلاناتھ خانل کے گھر کو بھی آگ لگا دی، جس میں سابق وزیراعظم کی اہلیہ راجیہ لکشمی چترکار زندہ جل گئی تھیں۔احتجاج کرنے والے جنریشن زی گروپس نے کٹھمنڈو میں پیش آنے والی تباہی سے لاتعلقی ظاہر کی اور کہا کہ ان کی تحریک کو “موقع پرستوں نے ہائی جیک کر لیا”۔ گروپ کا کہنا ہے کہ ان کی تحریک پُرامن ہے اور ان کا مقصد احتساب، شفافیت اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے جدوجہد کرنا ہے۔واضح رہے کہ نیپالی حکومت نے گزشتہ ہفتے سوشل میڈیا کی بڑی ویب سائٹس بند کر دی تھیں، جس پر نوجوانوں نے مظاہرے شروع کیے اور انہیں “جین زی انقلاب” کا نام دیا گیا۔