پیرس میں مساجد کے باہر خنزیر کے سر رکھنے کا واقعہ، 5 پر فرانسیسی صدر میکروں کا نام لکھا گیا

پیرس (فرانس) – پیرس اور اس کے مضافاتی علاقوں میں الگ الگ مساجد کے باہر تقریباً 9 خنزیر کے سر رکھنے کے بعد پورے فرانس میں ہلچل مچ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 5 خنزیروں کے سروں پر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں کا نام بھی لکھا گیا تھا، جس سے معاملہ مزید سنجیدہ ہو گیا ہے۔فرانسیسی پولیس کے سربراہ لارینٹ نیونیج نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ شرپسندوں نے 4 خنزیروں کے سر شہر میں اور 5 کو آس پاس کے علاقوں میں مساجد کے باہر رکھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ فرانس کو غیر مستحکم کرنے کی غیر ملکی سازش کا حصہ ہو سکتا ہے اور اس میں بیرونی مداخلت کے امکانات سے انکار نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ملک مالی اور سیاسی بحران کا شکار ہے۔فرانس کے وزیر داخلہ برونو ریٹیلو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کی اور یقین دلایا کہ فرانس میں مسلم برادری کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ امن سے اپنے مذہبی رسومات ادا کر سکیں۔فرانس میں یورپ کی سب سے بڑی مسلم آبادی رہائش پذیر ہے، جس کی تعداد 60 لاکھ سے زیادہ ہے۔ اسلام میں خنزیر کے حوالے سے سخت پابندیاں ہیں، اور حالیہ دنوں میں فرانس میں مسلم مخالف ماحول میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ فرانس میں صدر میکروں نے حال ہی میں وزیر دفاع سیبسٹین لیکورنو کو وزیر اعظم مقرر کیا ہے اور 2026 کے بجٹ کے لیے عام اتفاق رائے قائم کرنے کا چیلنج سونپا ہے۔