قطر نے 14 اور 15 ستمبر کو عرب اسلامی سربراہی اجلاس طلب کرلیا، اسرائیلی حملے پر مشاورت ہوگی

دوحہ: اسرائیلی فضائی حملے کے بعد قطر نے ہنگامی بنیادوں پر عرب اسلامی سربراہی اجلاس طلب کرلیا ہے، جو 14 اور 15 ستمبر کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں منعقد ہوگا، جب کہ اس سے قبل 13 ستمبر کو وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوگا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق قطری وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ اجلاس میں دوحہ پر اسرائیلی حملے اور اس کے خطے پر ممکنہ اثرات پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حملے کے بعد قطر نے عالمی سطح پر سفارتی دباؤ بڑھانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں تاکہ اسرائیل کے خلاف اسلامی اور عالمی سطح پر مشترکہ موقف اختیار کیا جا سکے۔دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے قطر پر حملے کو اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی آپریشن سے تشبیہ دے ڈالی ہے، جس پر عرب دنیا میں سخت غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ادھر پاکستان نے بھی دوحہ میں حماس پر ہونے والے اسرائیلی حملے کو قطر کی خودمختاری اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے برادر ملک کی قیادت اور عوام سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے اپنے ایک روزہ دورۂ قطر کے دوران امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات میں اسرائیلی جارحیت کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ نہ صرف قطری خودمختاری کی خلاف ورزی ہے بلکہ امت مسلمہ کے خلاف ایک کھلی سازش ہے، جسے فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔وزیر اعظم نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان اس مشکل وقت میں قطر کے ساتھ کھڑا ہے اور دونوں ممالک کے تاریخی اور برادرانہ تعلقات ہمیشہ مضبوط رہیں گے۔امیر قطر نے بھی پاکستان کے اظہار یکجہتی پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان اور قطر ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔