ایلون مسک کی خبردار کن پیش گوئی: 2026 تک AI انسانوں سے آگے نکل جائے گی

سان فرانسسکو: ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت (AI) کے حوالے سے ایک چونکا دینے والی پیش گوئی کی ہے۔ مسک کے مطابق، اگلے سال یعنی 2026 تک AI ایک عام انسان سے زیادہ ذہین ہو جائے گی، اور 2030 تک یہ دنیا کے تمام انسانوں سے بھی زیادہ سمجھدار ہو جائے گی۔مسک کے بیانات اور خدشات
ایلون مسک نے کہا کہ حالیہ برسوں میں AI نے بہت تیزی سے ترقی کی ہے، اور ہر ٹیکنالوجی کمپنی اپنے AI ماڈل کی تیاری میں مصروف ہے۔ مسک کا کہنا ہے کہ اس رفتار کے باعث انسانوں کو مستقبل میں AI کے ساتھ سخت مقابلے کا سامنا ہو سکتا ہے۔انہوں نے واضح نہیں کیا کہ یہ پیشن گوئی کن عوامل پر مبنی ہے، لیکن ایجنٹک AI اور فزیکل AI میں ترقی کی وجہ سے یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ AI جلد ہی انسانوں کا کنٹرول حاصل کر لے گا۔دیگر ماہرین کی رائے گوگل کے چیف سائنسدان جیف ڈین نے کہا کہ موجودہ جدید AI ماڈل ایسے اسٹیج پر پہنچ چکے ہیں جنہوں نے کچھ غیر جسمانی کاموں میں ایک عام انسان کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔2017 کی آئی ایم آئی ٹی اسٹڈی میں بھی کہا گیا تھا کہ اگلے 45 برسوں میں مشینوں میں انسانوں کے برابر سمجھ بوجھ آنے کے 50 فیصد امکانات موجود ہیں۔پس منظر ایلون مسک نے 2020 میں بھی کہا تھا کہ اگلے پانچ سالوں میں AI انسانوں سے آگے نکل جائے گا، تاہم ابھی تک ان کی یہ پیش گوئی مکمل طور پر درست ثابت نہیں ہوئی۔