اسرائیل کے حملوں میں شدت، 6 ممالک متاثر، عالمی مذمت اور ٹرمپ کی نیتن یاہو سے سخت گفتگو

اسرائیل کی جارحیت عروج پر پہنچ گئی ہے اور گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران اس نے چھ ممالک کو نشانہ بنایا۔ اسرائیل نے قطر، غزہ، یمن، شام، لبنان اور تیونس پر حملے کیے، جس میں شہری ہلاک اور املاک کو شدید نقصان پہنچا۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے رات بھر بمباری جاری رہی، جس کے نتیجے میں صرف 24 گھنٹوں میں 70 فلسطینی شہید ہو گئے۔ غزہ شہر کے ایک کیمپ پر ہونے والے حملے میں بچوں سمیت تین افراد ہلاک ہوئے۔اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ کے بقول اسرائیل امن چاہتا ہے اور ڈیل کے لیے تیار ہے، تاہم لندن میں برطانوی وزیراعظم سے ملاقات کے دوران انہوں نے قطر پر حملے کا دفاع کیا، جس کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے۔ مظاہرین نے اسرائیلی صدر کو نسل کشی کا مرتکب قرار دیا اور فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے قطر میں حماس رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی ناکام کوشش کے بعد دنیا بھر میں مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر سخت گفتگو کی۔اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے استفسار کیا کہ دوحہ میں حماس پر حملہ کامیاب رہا یا نہیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ قطر کی سرزمین پر حماس کو نشانہ بنانا عقل مندانہ فیصلہ نہیں تھا۔ نیتن یاہو نے جواب دیا کہ ان کے پاس محدود موقع تھا اور انہوں نے اس کا فائدہ اٹھایا۔بعد میں دونوں رہنماؤں کے درمیان دوسری مرتبہ بھی رابطہ ہوا، جس میں صدر ٹرمپ نے دوبارہ حملے کی کامیابی کے بارے میں پوچھا۔