ٹرمپ: قطر پر حملے کا فیصلہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا تھا، میرا نہیں

واشنگٹن/دوحہ (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ قطر پر حملے کا فیصلہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا تھا، اور یہ امریکی اقدام نہیں تھا۔خبر ایجنسی کے مطابق منگل کو اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ پر فضائی حملہ کیا، جس میں فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کی مرکزی قیادت کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کارروائی کی مشرق وسطیٰ اور دنیا بھر میں شدید مذمت ہوئی کیونکہ اس سے پہلے سے کشیدہ خطے میں مزید تناؤ پیدا ہوا۔ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے امریکی ایلچی اسٹیو وٹکاف کو قطر کو حملے کی پیشگی اطلاع دینے کی ہدایت دی تھی، لیکن حملے کو روکنے کے لیے بہت دیر ہو چکی تھی۔ تاہم قطر نے وائٹ ہاؤس کے اس دعوے کی تردید کی اور کہا کہ اطلاع کے دعوے غلط ہیں، اور امریکی عہدیدار کا فون اس وقت آیا جب دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ قطر میں یکطرفہ بمباری، جو ایک خودمختار اور امریکہ کا قریبی اتحادی ملک ہے، نہ تو اسرائیل کے اور نہ ہی امریکہ کے مقاصد کو آگے بڑھاتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مارکو روبیو کو قطر کے ساتھ دفاعی تعاون معاہدے کو حتمی شکل دینے کا کہا گیا ہے۔ حماس کے مطابق دوحہ میں اسرائیلی حملے میں اس کے پانچ ارکان شہید ہوئے، جن میں سربراہ خلیل الحیا کے بیٹے بھی شامل ہیں۔واضح رہے کہ واشنگٹن قطر کو خلیج میں ایک مضبوط اتحادی سمجھتا ہے۔ قطر اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی، حماس کے زیر حراست اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی، اور غزہ کے منصوبے کے لیے مذاکرات میں ثالث رہا ہے۔حملے کے بعد ٹرمپ نے نیتن یاہو اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی دونوں سے بات کی اور یقین دہانی کرائی کہ “ایسی چیز دوبارہ ان کے علاقے میں نہیں ہوگی”۔