کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ دو روز کے دوران وقفے وقفے سے مسلسل بارش نے شہر میں تباہی مچا دی۔ ملیر اور لیاری میں پانی کی سطح بلند ہوگئی جبکہ کئی نشیبی علاقے زیرِ آب آگئے۔بارش اور موسمی صورتحال اے آر وائی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد میں گزشتہ دو دنوں سے بارش کا سلسلہ جاری ہے، جس سے کئی علاقے اور مین شاہراہیں زیرِ آب آگئیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق بدھ کے روز بھی شہر کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارشیں بھی متوقع ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ بارشیں موجودہ ڈپریشن کی وجہ سے ہو رہی ہیں، جو بعد میں کمزور ہو کر ’ویل مارک ایریا‘ میں تبدیل ہوجائے گا اور جمعرات کو بحیرہ عرب کی جانب منتقل ہوگا۔ندیوں میں پانی کا بہاؤ اور سیلاب کراچی کے مضافاتی علاقوں کی ندیوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ ملیر، لیاری، مول ندی، کھدیجی ندی، جرندہ ندی میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گھروں میں پانی داخل ہوگیا۔ رہائشیوں نے محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی شروع کر دی۔ٹریفک کی صورتحال شارع فیصل، کورنگی، قیوم آباد اور کورنگی کراسنگ پر پانی کھڑا ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی۔سپر ہائی وے پر نجی ریسٹورینٹ کے اطراف سڑک زیرِ آب آگئی، جس سے کراچی-حیدرآباد موٹروے کی ٹریفک بند ہوگئی تھی۔نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کے مطابق پانی کی سطح کم ہونے پر ٹریفک بحال کر دی گئی ہے۔ریسکیو آپریشنز ترجمان ریسکیو 1122 کے مطابق سعدی ٹاؤن، صائمہ سوسائٹی، نشر بستی، عیسیٰ نگری اور سہراب گوٹھ سے سینکڑوں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔تھڈو ڈیم کے اسپل وے سے بہنے والی ایک گاڑی کے 4 افراد کو بھی بحفاظت نکالا گیا۔میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ پانی کی مقدار میں کمی کے بعد نشیبی علاقوں سے نکالنے کا عمل آسان ہوگا۔
تعلیمی ادارے بند بارش کے پیش نظر آج شہر کے تمام اسکول اور تعلیمی ادارے بند رکھے گئے۔ پرائیوٹ اسکولز نے والدین کو واٹس ایپ کے ذریعے معلومات فراہم کیں۔
اضافی اقدامات ریسکیو رضا کار، ایدھی، چھیپا اور ریسکیو 1122 کے اہلکار متحرک ہیں۔پولیس اور ٹریفک پولیس بھی سڑکوں پر موجود ہیں تاکہ شہریوں کی حفاظت اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھی جا سکے۔