دنیا بھر میں ہر 10 میں سے ایک بچہ موٹاپے کا شکار، یونیسیف کی تشویشناک رپورٹ

نیو یارک (مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسیف نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں بچوں اور نوجوانوں میں موٹاپا اب غذائی قلت کی سب سے بڑی شکل بن چکا ہے۔رپورٹ کے مطابق 5 سے 19 سال کی عمر کے ہر 10 میں سے ایک بچہ موٹاپے کا شکار ہے۔ 2000 میں زائد وزن والے بچوں کی تعداد 194 ملین تھی جو 2022 میں بڑھ کر 391 ملین تک پہنچ گئی۔یونیسیف کا کہنا ہے کہ موٹاپا ایک دائمی بیماری کی صورت اختیار کر چکا ہے، جس کی سب سے بڑی وجہ انتہائی پراسیس شدہ فوڈ کی آسان دستیابی ہے۔ پراسیس فوڈ نے پھل، سبزیاں اور پروٹین کی جگہ لے لی ہے، جو بچوں کی جسمانی، ذہنی اور اعصابی نشوونما کو متاثر کر رہا ہے۔یونیسیف چیف کے مطابق دنیا میں بھوک کم کرنے کی کوششیں جزوی طور پر کامیاب رہی ہیں، 2000 سے 2022 کے دوران کمزور بچوں کی شرح 13 فیصد سے 10 فیصد تک گھٹی، لیکن اسی عرصے میں زائد وزن والے بچوں کی تعداد دوگنی سے بھی زیادہ ہو گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں اس وقت 188 ملین بچے اور نوجوان موٹاپے کے مریض ہیں، جب کہ موٹاپے کو ذیابیطس، کینسر، ڈپریشن اور ذہنی دباؤ جیسی سنگین بیماریوں سے جوڑا جا رہا ہے۔