شہر قائد سمیت پورے ملک کی سیکیورٹی میں اہم کردار ادا کرنے والے رینجرز کے جوان سرحدوں کی نگہبانی اور داخلی امن و امان قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنی ٹریننگ کو بھی بھرپور جذبے اور زندہ دلی سے مکمل کرتے ہیں۔اے آر وائی نیوز کی خصوصی رپورٹ کے مطابق رینجرز کے جوانوں کی ٹریننگ میں جہاں ڈسپلن، سختی اور مہارت شامل ہیں، وہیں ان کے چہروں پر مسکراہٹیں، شرارتیں اور ساتھیوں کے ساتھ خوشگوار لمحے بھی ان کا حصہ ہیں۔ وقفے کے دوران یہ جوان خوش گپیاں، لطیفے اور گانے گا کر ایک دوسرے کو محظوظ کرتے ہیں۔چیف انسٹرکٹر لیفٹنٹ کرنل یاسر کے مطابق بھرتی کا طریقہ کار ایسا رکھا گیا ہے کہ صرف وہی افراد منتخب ہوں جو سخت ترین تربیت کو جھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔یاد رہے کہ 6 ستمبر 1965 کو دشمن کے حملے کا مقابلہ کرنے اور اسے منہ توڑ جواب دینے کا اعزاز بھی رینجرز کے ہی جوانوں کو حاصل ہے جنہوں نے کئی گھنٹے دشمن کو روکے رکھا اور پیچھے دھکیل دیا۔پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے یہ جوان ایک ہی عزم کے ساتھ کھڑے ہیں کہ سرزمینِ پاکستان کے تحفظ کے لیے جان کی قربانی بھی دینے کو تیار ہیں۔