غزہ: اسرائیلی فوج نے اتوار کو غزہ شہر کے بیروت چوک اور شارع جامعۃ الدول العربیہ کے قریب واقع رہائشی عمارت ’’برج الرؤیا‘‘ کو فضائی حملے میں مکمل طور پر تباہ کر دیا۔
عینی شاہدین کے مطابق میزائل حملے کے بعد بلند رہائشی برج ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوگیا، گرد و غبار نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، شہری خوف و ہراس کا شکار ہو گئے۔ حملے سے قبل اسرائیلی فوج کی جانب سے انخلا کی وارننگ جاری کی گئی تھی۔صہیونی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ عمارت حماس کے عسکری مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی تھی، تاہم فلسطینی تحریک نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ جمعے اور ہفتے کو بھی غزہ شہر میں دو رہائشی برج (برج مشہدی اور برج السوسی) انہی دعوؤں کے بعد ڈھائے گئے تھے۔اسرائیل کی نئی مہم ’’عربات جدعون 2‘‘ اسرائیلی افواج نے غزہ شہر کی دیگر بلند و بالا عمارتوں کو بھی خالی کرنے کے انتباہات دینا شروع کر دیے ہیں۔ فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں نئی فوجی مہم ’’عربات جدعون 2‘‘ کے تحت کی جا رہی ہیں، جس کا مقصد رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنا کر مبینہ عسکری تنصیبات ختم کرنا ہے۔تازہ ترین صورت حال گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فوج نے شاطی کیمپ، ایک اسکول اور مسجد پر بھی بمباری کی، جس سے متعدد عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ صرف ایک روز میں اسرائیلی فوج کی دہشت گردی کے نتیجے میں مزید 65 فلسطینی شہید ہوگئے، جبکہ غذائی قلت کے باعث 5 مزید افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
اسرائیلی جارحیت کے آغاز سے اب تک غزہ میں شہادتوں کی مجموعی تعداد 64 ہزار 368 ہو گئی ہے۔اسرائیلی قیادت کی ہٹ دھرمی اسرائیلی وزیر اعظم نے ایک بار پھر دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ جاری رہے گی اور غزہ پر مکمل کنٹرول کے بعد اس کی ذمہ داری کسی تیسرے فریق کو سونپی جائے گی۔دوسری جانب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیا ہے کہ “غزہ سے متعلق جلد اچھی خبر ملے گی” تاہم اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔