کراچی: نادرا کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ملک بھر میں 80 ہزار 847 شناختی کارڈز ضبط اور بحال کیے گئے۔ اس بارے میں نادرا آفیسر سید شباہت علی نے ایک پوڈ کاسٹ میں تفصیلات بتائیں۔انہوں نے وضاحت کی کہ شناختی کارڈ بلاک یا Impounding دراصل ایک قانونی اصطلاح ہے، جس کا مطلب ہے کہ کسی بھی وجہ سے کارڈ غیر مؤثر ہو جائے اور کسی جگہ قابلِ استعمال نہ رہے۔ اس کی وجوہات میں غیر مصدقہ معلومات، بائیو میٹرک مسائل یا کارڈ کی مدت پوری ہونا شامل ہیں، جنہیں درست کرانے کے لیے شہری کو نادرا کے دفتر جانا پڑتا ہے۔ڈپلیکیٹ کارڈ سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پہلے لوگ باآسانی دوسرا کارڈ بنوا لیتے تھے لیکن اب نظام زیادہ مضبوط اور جدید ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے ڈپلیکیٹ کارڈ بنوانا تقریباً ناممکن ہے۔غلط معلومات فراہم کرنے پر سزا کے بارے میں سید شباہت علی نے کہا کہ نیشنل ڈیٹا بیس میں غلط بیانی کرنا ریاست سے جھوٹ بولنے کے مترادف ہے اور یہ جرم ہے۔ اس کی سزا قید اور جرمانہ ہے، اگرچہ ابھی تک نادرا نے کسی شہری کو اس جرم پر سزا نہیں دلوائی۔