غزہ جنگ: ٹرمپ کی آخری وارننگ، ’’حماس یرغمالی رہا کرے ورنہ دوسری وارننگ نہیں ہوگی‘‘

واشنگٹن/یروشلم: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ غزہ کے معاملے پر جلد معاہدہ متوقع ہے اور بہت جلد اچھی خبر سامنے آئے گی۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کی اولین کوشش ہے کہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی عمل میں لائی جائے اور غزہ میں جاری جنگ کا فوری خاتمہ ہو۔انہوں نے حماس کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا:’’یہ میری آخری وارننگ ہے، دوسری وارننگ نہیں آئے گی۔ اسرائیلی مغوی فوری طور پر رہا کیے جائیں، پوری دنیا چاہتی ہے کہ یہ جنگ ختم ہو۔‘‘ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے ان کی شرائط تسلیم کرلی ہیں اور اب حماس پر ہے کہ وہ بھی یہ شرائط مانے۔اسرائیل کا مطالبہ اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سار نے یروشلم میں صحافیوں کو بتایا کہ اگر حماس اپنے ہتھیار ڈال دے اور باقی یرغمالیوں کو رہا کر دے تو جنگ فوری طور پر ختم ہو سکتی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی فوج غزہ کے سب سے بڑے شہری مرکز پر بھرپور حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔حماس کا ردعمل فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے رہنما باسم نعیم نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز سے گفتگو میں کہا کہ:’’ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے، لیکن اگر اسرائیل جنگ روکنے اور اپنی فوجیں غزہ سے واپس بلانے پر راضی ہو جاتا ہے تو ہم تمام یرغمالیوں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘‘یہ وہی موقف ہے جو حماس طویل عرصے سے دہرا رہا ہے، لیکن اسرائیل اب تک اسے قبول کرنے پر تیار نہیں۔عوامی دباؤ تل ابیب میں ہزاروں اسرائیلی شہریوں نے احتجاج کیا اور صدر ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری مداخلت کر کے اس جنگ کو ختم کرائیں۔