نائجیریا کی ریاست بورنو میں دہشت گرد تنظیم بوکو حرام نے رات گئے گاؤں پر حملہ کر کے 60 سے زائد افراد کو قتل کر دیا، جن میں 7 فوجی بھی شامل ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ حملہ دارالجمال نامی گاؤں پر جمعہ کی شب تقریباً 8:30 بجے کیا گیا۔ مسلح دہشت گردوں نے کمیونٹی پر دھاوا بولا، اندھا دھند فائرنگ کی اور گھروں کو آگ لگا دی۔مقامی روایتی سردار نے بتایا کہ دہشتگرد گھر گھر جا کر صرف مردوں کو قتل کرتے رہے اور عورتوں کو چھوڑ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہفتے کی صبح تک تقریباً 70 لاشیں برآمد کی جا چکی تھیں جبکہ کئی افراد اب بھی جنگلات میں لاپتا ہیں۔متاثرہ گاؤں کے لوگ کئی سال کی نقل مکانی کے بعد محض ایک ماہ قبل ہی اپنے گھروں کو واپس آئے تھے۔ مقامی افراد کے مطابق وہ فوج کو تین دن سے خبردار کر رہے تھے کہ بوکو حرام کے شدت پسند گاؤں کے قریب جمع ہو رہے ہیں، لیکن بروقت کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔حملے میں 20 سے زائد مکانات اور 10 بسیں تباہ ہوئیں جبکہ ہلاک شدگان میں سات ڈرائیور اور چھ مزدور بھی شامل تھے، جو باما اور میڈوگری سے آ کر تعمیر نو کے کاموں میں مصروف تھے۔نائجیریا کی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے حالیہ مہینوں میں بورنو ریاست میں انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں تیز کی ہیں تاکہ بوکو حرام اور اس سے الگ ہونے والے گروہ اسلامک اسٹیٹ ویسٹ افریقہ پروِنس (ISWAP) سمیت دیگر ملیشیاؤں کو قابو میں کیا جا سکے، تاہم یہ کارروائیاں حملے روکنے میں ناکام رہی ہیں۔