غزہ: اسرائیل نے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس سے ہتھیار ڈالنے اور یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے، تاہم حماس نے واضح کیا ہے کہ وہ صرف اس صورت میں یرغمالیوں کو چھوڑے گا جب اسرائیل جنگ ختم کرکے اپنی فوجیں غزہ سے نکالے۔خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سار نے یروشلم میں صحافیوں کو بتایا کہ اگر حماس ہتھیار ڈال دے اور قید یرغمالیوں کو رہا کر دے تو جنگ فوری طور پر ختم ہوسکتی ہے۔اس کے جواب میں حماس کے رہنما باسم نعیم نے کہا:”ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے، لیکن اگر اسرائیل جنگ بند کرے اور غزہ سے فوجیں ہٹائے تو تمام یرغمالیوں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہیں۔”مقامی حکام کے مطابق گزشتہ رات غزہ شہر میں اسرائیلی کارروائیوں کے دوران 14 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو ایک اسکول میں پناہ لیے ہوئے تھے۔اسکول پر حملے کے سوال پر اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے حماس کے ایک جنگجو کو نشانہ بنایا اور شہریوں کو پہلے ہی خبردار کر دیا تھا۔اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق، غزہ کی پٹی میں کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک اسرائیلی شہریوں کے خلاف خطرہ ختم نہیں ہو جاتا۔