گوگل نے اسرائیلی حکومت سے 4 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی اشتہاری مہم شامل ہے۔ڈراپ سائٹ نیوز کے مطابق مارچ سے گوگل اسرائیلی پروپیگنڈا اشتہارات چلا رہا ہے، جن میں غزہ میں بھوک کی تردید اور متنازع “جی ایچ ایف” کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ چھ ماہ کے معاہدے کے تحت گوگل اسرائیلی حکومت کے بیانیے کو آگے بڑھا رہا ہے۔جون کے آخر میں طے پانے والے معاہدے میں گوگل کو کلیدی شراکت دار قرار دیا گیا۔ اشتہاری مہم اس وقت شروع ہوئی جب اسرائیل نے 2 مارچ کو غزہ میں امداد روک دی تھی، اور اشتہارات میں بھوک کی تردید کے پیغامات وسیع پیمانے پر پھیلائے گئے۔اسرائیلی دستاویزات میں ان اشتہارات کو “ہسبارا” یعنی پروپیگنڈا قرار دیا گیا ہے۔ ریکارڈ کے مطابق اسرائیل نے امریکی کمپنی ایکس پر بھی 30 لاکھ ڈالر کے اشتہارات دیے، اور فرانسیسی-سرائیلی پلیٹ فارم آؤٹ برین ٹیڈز پر 21 لاکھ ڈالر خرچ کیے۔ گزشتہ سال بھی اسرائیلی اشتہارات اقوام متحدہ اور غزہ حکام کو بدنام کرنے کے لیے استعمال ہوئے تھے۔جولائی میں گوگل پر اسرائیلی حکومتی اشتہار میں اقوام متحدہ پر امداد روکنے کا الزام بھی لگایا گیا۔