این ڈی ایم اے حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ پنجاب سے نکلنے والا بڑا سیلابی ریلا سندھ میں داخل ہوگا، اس وقت کئی مقامات پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق ہیڈ پنجند سے آنے والا ریلا گڈو بیراج کی طرف بڑھے گا، جب کہ 6 ستمبر کو بھارت سے سندھ میں بارشوں کا نیا سسٹم داخل ہوگا، جس کے تحت ٹھٹہ، سجاول، میرپورخاص اور بدین میں 6 سے 10 ستمبر تک موسلادھار بارشیں متوقع ہیں۔ڈی جی پی ڈی ایم اے سندھ سلمان شاہ کے مطابق صوبے میں سیلاب سے 11 لاکھ ایکڑ زرعی زمین متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جب کہ سندھ کے کچے کے علاقے میں 16 لاکھ سے زائد آبادی اور 1,670 دیہات موجود ہیں۔انہوں نے بتایا کہ سندھ 12 لاکھ کیوسک پانی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، گڈو بیراج پر 6 سے 7 لاکھ کیوسک کا ریلا آ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ ریلا ’سپر فلڈ‘ کہلایا جا رہا ہے لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ اس کی شدت پنجاب کے مقابلے میں سندھ میں کم ہوگی، جس سے امید ہے کہ مجموعی صورت حال قابو میں رہے گی۔ڈی جی کے مطابق کچے کے علاقے میں 7 لاکھ کیوسک ریلا پورے علاقے کو ڈبو سکتا ہے، تاہم سندھ میں دریا کے بند مضبوط اور بلند ہیں، اس لیے بڑے پیمانے پر تباہی سے بچاؤ ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکھر سے کوٹڑی تک دریا چوڑا ہے، اسی لیے پانی کے اثرات نسبتاً کم محسوس ہوں گے۔