روس میں ملاقات کے بعد کم جونگ ان کی موجودگی کے آثار مٹائے گئے

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک): روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کے بعد شمالی کوریائی حکام نے غیر معمولی احتیاطی اقدامات کرتے ہوئے وہ تمام نشانات مٹا دیے جو سربراہ کم جونگ ان نے کمرے میں چھوڑے تھے۔خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق، پیوٹن اور کم جونگ ان کے درمیان دو گھنٹے سے زائد ملاقات کے بعد سامنے آنے والی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ شمالی کوریائی عملے نے ملاقات کے کمرے کو باریک بینی سے صاف کیا۔ عملے نے کم جونگ ان کی استعمال کردہ کرسی کے بازو اور پشت کو رگڑ کر صاف کیا، ان کے سامنے رکھا کافی ٹیبل بھی اچھی طرح صاف کیا گیا جبکہ وہ گلاس بھی ہٹا دیا گیا جس سے انہوں نے پانی پیا تھا۔کریملن رپورٹر ایلیگزینڈر یوناشیف نے ٹیلی گرام پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کم جونگ ان کی روانگی کے بعد اُن کی موجودگی کے تمام نشانات احتیاطاً مٹا دیے گئے تاکہ کسی قسم کے سیکیورٹی یا ذاتی خدشات نہ رہیں۔
ملاقات کے بعد دونوں رہنما ایک ساتھ چائے پینے کے لیے گئے اور پھر گرمجوشی کے ساتھ ایک دوسرے کو رخصت کیا۔جاپانی اخبار نکی نے جنوبی کوریائی اور جاپانی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ کم جونگ ان نے اپنے سابقہ غیر ملکی دوروں کی طرح اس بار بھی اپنی مخصوص ٹرین میں ذاتی بیت الخلا ساتھ لے جانے کا اہتمام کیا، تاکہ اُن کی صحت یا دیگر تفصیلات خفیہ رہ سکیں۔