دبئی کا ڈیجیٹل نومیڈ ویزا: پاکستانی ریموٹ ورکرز کے لیے سنہری موقع

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک): وہ پاکستانی شہری جو بیرون ملک بیٹھ کر ریموٹ ورک یا آن لائن بزنس کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے دبئی حکومت نے ڈیجیٹل نومیڈ ویزا کا اجرا کر دیا ہے۔ یہ ویزا ریموٹ ورکرز، فری لانسرز اور کاروباری افراد کو ایک سال تک قانونی طور پر دبئی میں قیام اور کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔اہلیت کے تقاضے درخواست دہندگان کو متحدہ عرب امارات سے باہر کم از کم ایک سال کی ملازمت یا کاروباری سرگرمی ثابت کرنا ہوگی۔ملازمت کا سرکاری سرٹیفکیٹ اور گزشتہ 3 ماہ کے بینک اسٹیٹمنٹس فراہم کرنا لازمی ہے۔ویزا کے لیے کم از کم ماہانہ آمدنی تقریباً 9 لاکھ 74 ہزار روپے ہونی چاہیے۔دبئی کے ورچوئل ورکنگ پروگرام کے لیے آمدنی کی حد 13 لاکھ 90 ہزار روپے ہے۔درخواست اور فیس ڈیجیٹل نومیڈ ویزا کی فیس تقریباً 1 لاکھ 70 ہزار روپے ہے، جس میں پروسیسنگ چارجز، طبی معائنہ اور اماراتی شناختی کارڈ شامل ہیں۔
پاکستانی درخواست دہندگان تمام کارروائی آن لائن مکمل کر سکتے ہیں۔ پاکستانیوں کے لیے فوائد دبئی میں انٹرنیٹ کی رفتار اوسطاً 235.72 Mbps ہے، جبکہ رہائشیوں پر کوئی انکم ٹیکس لاگو نہیں ہوتا۔ عالمی ٹیکنالوجی اور اسٹارٹ اپ ہب کے طور پر دبئی بین الاقوامی نیٹ ورکنگ اور کاروباری مواقع فراہم کرتا ہے۔ویزا کے تحت خاندان کے افراد کو بھی ساتھ رکھا جا سکتا ہے۔ماہرین کی رائےتجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دبئی کا یہ ویزا پاکستانی ریموٹ ورکرز اور بزنس کمیونٹی کے لیے نہ صرف ٹیکس فری کمائی بلکہ ایک جدید اور عالمی معیار کے طرزِ زندگی کے حصول کا بہترین موقع ہے۔