امریکا نے ایرانی تیل اسمگلنگ میں ملوث شپنگ نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کر دیں

واشنگٹن: امریکا نے ایرانی تیل اسمگلنگ میں سرگرم ایک بڑے شپنگ نیٹ ورک پر پابندیاں لگا دی ہیں، جو ایرانی تیل کو عراقی تیل کے طور پر ظاہر کرکے عالمی منڈیوں میں فروخت کرتا رہا۔ایرانی تیل کو عراقی تیل بنا کر فروخت امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق عراقی نژاد ایک کاروباری شخص کی سربراہی میں یہ نیٹ ورک ایرانی تیل کو خفیہ طور پر عراقی تیل کے ساتھ ملا کر صرف “عراقی تیل” کے طور پر فروخت کرتا تھا تاکہ امریکی پابندیوں سے بچ سکے۔امریکی وزیر خزانہ کا بیان امریکی وزیر خزانہ اسمتھ بَیسنٹ نے کہا ہے کہ ایران کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو مسلسل نشانہ بنایا جائے گا، کیونکہ یہی وسائل امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف حملوں میں استعمال ہوتے ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے امریکی پابندیوں سے بچنے کی تمام کوششیں ناکام بنائی جائیں گی۔کن کمپنیوں اور جہازوں پر پابندیاں لگیں؟محکمہ خزانہ کے مطابق اس نیٹ ورک سے منسلک متعدد کمپنیاں اور بحری جہاز پابندیوں کی زد میں آگئے ہیں، جن میں شامل ہیں:دبئی کی کمپنی بابیلون نیویگیشن DMCC اور اس کے زیر انتظام جہاز۔خلیج عرب میں جہاز سے جہاز منتقلی کے ذریعے ایرانی و عراقی تیل کو ملایا جاتا تھا۔لائبیریا کے پرچم بردار ٹینکرز ایڈینا، لیلیانا اور کمیلا بھی اس نیٹ ورک کا حصہ رہے۔مارشل آئی لینڈز کی کمپنیاں ٹریفو نیویگیشن، کیلی شپ ٹریڈ لمیٹڈ، اوڈیار مینجمنٹ ایس اے، پاناریہ میرین ایس اے اور ٹاپ سیل شپ ہولڈنگ انک بھی اس کاروباری شخص کی ملکیت چھپانے کے لیے استعمال کی گئیں۔پس منظرامریکا کا کہنا ہے کہ ایران کی تیل کی آمدنی اس کے لیے بڑی مالی مدد کا ذریعہ ہے، اور اس آمدنی کے راستے بند کرنے کے لیے مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔