بیجنگ میں فوجی پریڈ، صدر شی جن پنگ کا امن کا عالمی پیغام

بیجنگ: چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ آج انسانیت کو جنگ یا امن، مکالمے یا تصادم، اور جیت یا صفر میں سے انتخاب کرنا ہوگا۔بیجنگ کے تیانانمن اسکوائر پر بدھ کو منعقدہ چین کی تاریخ کی سب سے بڑی فوجی پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے صدر شی نے دنیا کو امن کا پیغام دیا۔ اس موقع پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سمیت کئی عالمی رہنماؤں نے شرکت کی۔ یہ تقریب دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر جاپان کی شکست کے 80 سال مکمل ہونے پر منعقد کی گئی۔
توسیع پسندی سے انکارشی جن پنگ نے واضح کیا کہ:’’ہم جتنے بھی مضبوط ہو جائیں، کبھی توسیع پسندی کا راستہ اختیار نہیں کریں گے اور نہ ہی اپنے ماضی کی مصیبت کسی دوسرے ملک پر عائد کریں گے۔‘‘انصاف پر مبنی عالمی نظام کی ضرورتچینی صدر نے کہا کہ چینی عوام تاریخ کے درست سمت پر کھڑے ہیں اور امن کے لیے پرعزم ہیں۔انھوں نے کہا کہ چین کی خوش حالی اور ترقی کو روکا نہیں جا سکتا، اور ہم دنیا میں ایسا عالمی نظام چاہتے ہیں جو انصاف اور مساوات پر مبنی ہو۔ایران کے ساتھ تعاون
شی جن پنگ نے ایران کے پُرامن جوہری توانائی کے حق کی حمایت جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا۔تیانانمن اسکوائر پر 50 ہزار سے زائد افراد کی موجودگی میں شی جن پنگ نے کہا کہ دنیا کو آج فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ تصادم کا راستہ اپناتی ہے یا امن کا۔