غزہ میں اسرائیلی فوج کے وحشیانہ حملے جاری ہیں، قابض فوج نے ایک اور حاملہ خاتون سمیت مزید 100 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کردیا۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی فوج نے شاتی پناہ گزین کیمپ میں ایک گھر پر راکٹ حملہ کیا جس کے نتیجے میں مکان کا ایک حصہ زمین بوس ہوگیا۔ حملے میں ایک حاملہ خاتون بھی شہید ہوگئی۔ تباہ شدہ کمرے سے بچوں کے کپڑے اور کھلونے برآمد ہوئے جو غالباً خاتون نے اپنے ہونے والے بچے کے لیے سنبھال رکھے تھے۔فلسطینی وزارت صحت کے مطابق قابض فوج کے تازہ حملوں میں ایک روز میں مزید 100 سے زائد فلسطینیوں نے جامِ شہادت نوش کیا، جس کے بعد غزہ میں شہدا کی مجموعی تعداد 63 ہزار 557 تک پہنچ گئی، جبکہ 1 لاکھ 60 ہزار 660 افراد زخمی ہیں۔ادھر خوراک کی شدید کمی کے باعث غزہ میں قحط کی کیفیت ہے۔ بھوک اور بنیادی سہولتوں کی عدم فراہمی کے باعث مزید 9 فلسطینی جاں بحق ہوگئے۔ وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی بمباری کے بعد اب بھی متعدد افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں لیکن قابض فوج ریسکیو اہلکاروں کو متاثرہ علاقوں میں داخل ہونے نہیں دے رہی۔امریکا کی نئی ویزا پابندیاں دوسری جانب امریکا کی ٹرمپ انتظامیہ نے فلسطینی پاسپورٹ کے حامل افراد کو ویزا دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں فلسطینی رہنماؤں کے ویزے منسوخ کیے جانے کے بعد اب عام فلسطینی شہریوں پر بھی ویزا پالیسی مزید سخت کردی گئی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی سفارت کاروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ فلسطینی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کی ویزا منظوری روک دی جائے۔ اس اقدام کا مقصد فلسطینیوں کو علاج، تعلیم اور کاروباری سفر کے لیے امریکا آنے سے روکنا ہے۔انسانی ہمدردی کی کوششیں ادھر غزہ کے متاثرین کی امداد کے لیے ایک بڑا امدادی قافلہ اسپین سے روانہ کردیا گیا ہے، جو جلد ہی متاثرہ علاقوں تک پہنچنے کی کوشش کرے گا۔