سعودی عرب میں 20 ہزار سے زائد غیر قانونی تارکین گرفتار

ریاض: (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی فورسز نے گزشتہ ہفتے بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے 20 ہزار سے زائد غیر قانونی تارکین وطن کو حراست میں لے لیا۔عرب خبر رساں ادارے کے مطابق یہ گرفتاریاں 21 اگست سے 27 اگست 2025 کے دوران عمل میں آئیں۔ مشترکہ کمیٹی برائے انسداد غیر قانونی تارکین نے بتایا کہ کل گرفتار شدگان میں سے:12,891 افراد اقامہ قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث تھے۔3,888 افراد نے سرحدی قوانین کی خلاف ورزی کی۔3,540 افراد لیبر قوانین کی خلاف ورزی میں شامل تھے۔مزید بتایا گیا کہ اس دوران 1,238 افراد ایسے بھی پکڑے گئے جو سرحد عبور کرکے غیر قانونی طور پر سعودی عرب میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان میں سے 50 فیصد یمنی، 49 فیصد ایتھوپیائی جبکہ ایک فیصد دیگر ممالک کے شہری تھے۔اسی طرح 22 افراد کو ملک سے غیر قانونی طور پر باہر جانے کی کوشش کرتے ہوئے حراست میں لیا گیا، جبکہ غیر قانونی تارکین کو سہولت فراہم کرنے پر 16 افراد کو بھی گرفتار کیا گیا۔وزارت داخلہ نے خبردار کیا کہ غیر قانونی تارکین کو سہولت فراہم کرنا سنگین جرم ہے جس کی سزا 15 سال قید اور 10 لاکھ ریال جرمانہ ہوسکتی ہے۔صحت و خوراک کے شعبے میں سخت جرمانےدوسری جانب سعودی وزارت بلدیات اور ہاؤسنگ نے کھانے پینے کے مراکز میں صحت و صفائی کے سخت قوانین نافذ کرتے ہوئے نئے جرمانوں کا اعلان کیا ہے۔کھانے کے شعبے میں سگریٹ نوشی پر 5,000 ریال جرمانہ عائد کیا جائے گا۔کھانے کی تیاری کے مقامات پر کارکنوں کے چہرے کا ماسک نہ پہننے پر 1,000 ریال اور سر نہ ڈھانپنے پر 1,000 ریال جرمانہ ہوگا۔غیر صحت بخش طریقے، دھوکہ دہی پر مبنی فروخت اور فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی پر بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔یہ اقدامات صارفین کے تحفظ اور حفظان صحت کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔