کابل: شمالی افغانستان اتوار اور پیر کی درمیانی شب شدید زلزلے سے لرز اٹھا۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 6 ریکارڈ کی گئی، جس کے نتیجے میں 622 افراد جاں بحق اور افغان وزارت داخلہ کے مطابق 1500 سے زائد شہری زخمی ہوئے۔امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز صوبہ ننگرہار کے شہر جلال آباد کے قریب تھا اور اس کی گہرائی 8 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کے 20 منٹ بعد 4.5 شدت کا ایک اور جھٹکا بھی محسوس کیا گیا، جس کی گہرائی 10 کلومیٹر تھی۔ترجمان افغان طالبان ذبیح اللّٰہ مجاہد نے کہا کہ زلزلے سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور بحالی کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں جبکہ عوام کو بھی متاثرین کی مدد کے لیے متحرک کیا گیا ہے۔زلزلے کے جھٹکے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بھی محسوس کیے گئے۔افغان طالبان نے بین الاقوامی امدادی تنظیموں سے ریسکیو آپریشن میں تعاون کی اپیل کی ہے۔بی بی سی کے مطابق صوبہ کنڑ میں سینکڑوں افراد کے جاں بحق ہونے کا خدشہ ہے۔ ایک طالبان عہدیدار کے مطابق ایک گاؤں میں 21 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 35 زخمی ہوئے۔زلزلے سے متاثرہ علاقے زیادہ تر دور دراز ہیں جہاں موبائل نیٹ ورک کام نہیں کر رہے اور کئی مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کے باعث سڑکیں منقطع ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔یاد رہے کہ جون 2022 میں مشرقی افغانستان میں 5.9 شدت کے زلزلے سے کم از کم ایک ہزار افراد جاں بحق اور 3 ہزار زخمی ہوئے تھے، جو گزشتہ دو دہائیوں کا سب سے ہلاکت خیز زلزلہ قرار دیا گیا تھا۔