واشنگٹن: امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ محکمہ دفاع (Department of Defense) کا نام دوبارہ اس کے پرانے نام محکمہ جنگ (Department of War) میں تبدیل کیا جا سکتا ہے ’’دفاعی نہیں بلکہ جارحانہ بھی بننا چاہتے ہیں‘‘ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ موجودہ نام 1940 کی دہائی سے رائج ہے جو ’’حد سے زیادہ دفاعی‘‘ معلوم ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو پہلی اور دوسری عالمی جنگوں میں ناقابل یقین فتوحات اسی وقت ملیں جب یہ ادارہ ’’محکمہ جنگ‘‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ ٹرمپ نے مزید کہا: ’’ہم دفاعی بننا چاہتے ہیں، لیکن اگر ضرورت پڑی تو ہم جارحانہ بھی بننا چاہتے ہیں۔‘‘ اگلے ہفتے تک فیصلے کا امکان ٹرمپ نے ابتدائی طور پر کہا کہ یہ تبدیلی اگلے ایک ہفتے میں کی جا سکتی ہے، تاہم بعد میں انھوں نے یہ فیصلہ اپنے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ پر چھوڑنے کا عندیہ دیا۔ ان کے مطابق: ’’ہم اس پر چند بار مزید غور کریں گے، اگر سب کو یہ پسند آیا تو ہم یہ تبدیلی کر دیں گے۔‘‘
کانگریس کی منظوری یا صدارتی اقدام؟ امریکی جریدے کے مطابق 1947 میں محکمہ جنگ کا نام بدل کر محکمہ دفاع رکھا گیا تھا۔ اس لیے اس نام کی بحالی کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کو کانگریس کی منظوری کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ تاہم ٹرمپ نے کہا کہ وہ متبادل راستے اختیار کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں اور انھیں یقین ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو کانگریس بھی ساتھ دے گی۔ ’’وزیرِ جنگ‘‘ کا تذکرہ واضح رہے کہ ٹرمپ کئی ماہ سے وفاقی حکومت کے سب سے بڑے محکمے کے نام کی تبدیلی کا عندیہ دیتے آئے ہیں۔ گزشتہ ماہ انھوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر پیٹ ہیگستھ کو ’’وزیرِ جنگ‘‘ قرار دیا تھا۔