سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل میمن نے خبردار کیا ہے کہ 2 یا 3 ستمبر کی رات تک دریائے سندھ میں آنے والا سیلاب صوبے میں داخل ہوگا، جس کے نتیجے میں 16 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر تیاریاں مکمل کر لی ہیں، 102 حساس مقامات پر مشینری پہنچا دی گئی ہے، جبکہ صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری خود صورتِ حال کی نگرانی کر رہے ہیں۔شرجیل میمن کے مطابق دریا کنارے آباد دیہاتوں سے نقل مکانی شروع ہو چکی ہے، کچے کے علاقے بڑی تعداد میں خالی کرائے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ”کوئی اپنے گھر چھوڑ کر کیمپوں میں رہنا نہیں چاہتا، لیکن عوام کی زندگی سب سے قیمتی ہے، اس لیے متاثرہ علاقے فوری خالی کر دیے جائیں۔“سینیئر وزیر نے مزید بتایا کہ انتظامیہ کی توجہ انسانی جانوں کو بچانے پر مرکوز ہے۔ گدو بیراج 12 لاکھ کیوسک پانی برداشت کر سکتا ہے، اور توقع ہے کہ آنے والا ریلا اتنا ہی ہوگا جتنا بیراج سنبھال سکتا ہے۔ادھر وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صورتِ حال کی مانیٹرنگ کے لیے مقرر وزرا کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ منگل اور بدھ کی رات دریائے سندھ میں سیلاب کا خدشہ ہے، اس لیے بندوں اور نہری نظام کی کڑی نگرانی کی جائے۔ وزیرِ اعلیٰ آج صوبائی وزرا کے ہمراہ گدو بیراج کا دورہ بھی کریں گے۔محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے کے مطابق اگلے دو سے تین روز تک مزید بارشیں متوقع ہیں، جس کے بعد دریاؤں میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب آنے کا خطرہ ہے۔ راوی، ستلج اور بیاس میں بھی طغیانی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ اگلے 24 گھنٹوں میں دریائے چناب کے ہیڈ تریموں پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ ہونے کا امکان ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہفتے تک 10 لاکھ کیوسک کا ریلا سندھ پہنچ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا خطرہ ہے۔