بھارت کی آبی جارحیت: دریائے چناب میں 8 لاکھ کیوسک سیلابی ریلہ بغیر اطلاع کے پاکستان پہنچا

بھارت کی آبی جارحیت جاری ہے اور ایک بار پھر بڑا سیلابی ریلہ دریائے چناب کے ذریعہ پاکستان میں داخل ہو گیا ہے۔ مودی حکومت کی جانب سے بغیر پیشگی اطلاع کے یہ پانی چھوڑا گیا ہے، جس سے پنجاب میں شدید تباہی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔بھارت نے سلال ڈیم کے تمام گیٹ کھول دیے ہیں، جس کے نتیجے میں تقریباً 8 لاکھ کیوسک پانی پاکستان کی طرف بہہ رہا ہے۔ یہ سیلابی ریلہ اگلے 48 گھنٹوں میں ہیڈ مرالہ تک پہنچے گا، جہاں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا امکان ہے۔ متاثرہ علاقوں میں خانکی، قادرآباد اور ہیڈ پنجند شامل ہیں، جہاں صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔گزشتہ چند روز میں بھارت نے پہلے بھی 9 لاکھ کیوسک اور اس سے قبل بڑے پیمانے پر پانی پاکستان کی جانب چھوڑا تھا۔ ان سیلابی ریلوں کی اطلاع سندھ طاس معاہدے کے برخلاف آخری وقت میں دی گئی، جس کی وجہ سے پاکستان بروقت انتظامات نہیں کر سکا۔ اس بار پانی بغیر کسی اطلاع کے چھوڑا گیا ہے، جس سے مزید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔متاثرہ علاقے اور خطرہ:سیالکوٹ، گوجرانوالہ، مظفر گڑھ، خانیوال، پنڈی بھٹیاں، حافظ آباد، چنیوٹ، شور کوٹ اور اطراف کے علاقے سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔پنجاب میں تباہی پھیلانے کے بعد یہ سیلابی ریلہ دریائے سندھ میں داخل ہو جائے گا۔ محکمہ موسمیات نے بھی شدید بارشوں کی وارننگ جاری کر رکھی ہے، جس سے دریاؤں اور ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔تاریخ اور وقت:متوقع ہے کہ 2 یا 3 ستمبر کی رات یہ سیلاب سندھ میں داخل ہوگا، اس لیے تمام متعلقہ ادارے ہائی الرٹ ہیں اور عوام کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ محفوظ مقامات پر منتقل ہوں۔