جہیز کی لعنت اور انا کی ضد، بھارت میں بڑھتے افسوسناک واقعات

امروہہ / گجرات (بھارتی میڈیا رپورٹس) – بھارت میں خواتین پر ظلم کے دو دل دہلا دینے والے واقعات نے معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔جہیز کی لالچ نے لے لی بیٹی کی جان امروہہ کے علاقے حسن پور کی 23 سالہ گلفشا کی شادی ایک سال قبل دھوم دھام سے ہوئی تھی، لیکن شادی کے بعد سسرالیوں نے اس پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا کہ وہ اپنے والدین کے گھر سے 10 لاکھ روپے اور ایک کار لے کر آئے۔گلفشا کے گھر والوں کا الزام ہے کہ مطالبہ پورا نہ ہونے پر شوہر پرویز اور دیگر سسرالیوں نے ظلم و زیادتی کی انتہا کر دی۔ چند روز قبل اسے زبردستی تیزاب پلایا گیا جس کے بعد وہ 17 دن تک اسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑتی رہی، مگر گزشتہ رات وہ دم توڑ گئی۔پولیس نے واقعے کے بعد شوہر پرویز کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ دیگر رشتہ داروں کے خلاف بھی مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔سوشل میڈیا پر بلاک کرنے پر قتل دوسرا واقعہ بھارتی ریاست گجرات میں پیش آیا جہاں ایک نوجوان نے اپنی سابقہ گرل فرینڈ کو محض اس لیے قتل کر دیا کہ لڑکی نے اسے سوشل میڈیا پر بلاک کر دیا تھا۔رپورٹس کے مطابق لڑکی مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے گاندھی دھام سے بھج منتقل ہو گئی تھی، جس پر نوجوان شدید ناراض تھا اور بار بار اسے واپس آنے پر اصرار کرتا رہا۔ لڑکی کے انکار پر اس نے اسے کال کرکے ملاقات کے بہانے بلایا اور چاقو کے وار سے موت کے گھاٹ اتار دیا۔سماجی المیہ ماہرین کے مطابق بھارت میں جہیز کے مطالبات اور خواتین پر گھریلو تشدد کے واقعات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انا پر مبنی رشتوں کے بگاڑ اور خواتین کی آزادی پر قدغن جیسے رویے کئی جانیں نگل رہے ہیں۔