تہران — ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے آٹھ ایجنٹ گرفتار کر لیے ہیں جو مبینہ طور پر حساس مقامات اور اعلیٰ فوجی قیادت کی تفصیلات اسرائیل منتقل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔روئٹرز کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ایجنٹوں پر الزام ہے کہ وہ نہ صرف حساس فوجی اور جوہری تنصیبات کی معلومات اکٹھی کر رہے تھے بلکہ انہوں نے جون میں ایران-اسرائیل جنگ کے دوران بھی موساد کو خفیہ معلومات فراہم کی تھیں۔ اسی جنگ میں ایرانی جوہری سائٹس اور اعلیٰ فوجی کمانڈروں کے ساتھ ساتھ سائنسدانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔پس منظر: ایران-اسرائیل جنگ جون میں شروع ہونے والی اس جنگ کے دوران اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کیے جبکہ ایران نے جوابی کارروائی میں اسرائیلی فوجی اڈوں، انفراسٹرکچر اور شہروں پر میزائل داغے۔ بعدازاں امریکا بھی 22 جون کو اس جنگ میں شامل ہوا اور ایرانی جوہری مقامات کو نشانہ بنایا۔گرفتار ایجنٹ کیسے پکڑے گئے؟پاسداران انقلاب کے مطابق مشتبہ ایجنٹ آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے موساد سے خصوصی تربیت حاصل کر رہے تھے۔انہیں شمال مشرقی ایران میں کارروائیوں سے پہلے ہی پکڑ لیا گیا۔ ان کے قبضے سے لانچرز، دھماکا خیز مواد، بم اور بوبی ٹریپس بنانے کا سامان بھی برآمد ہوا۔بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کا سلسلہ ایرانی سرکاری میڈیا نے اس ماہ کے آغاز میں بتایا تھا کہ 12 روزہ ایران-اسرائیل جنگ کے دوران تقریباً 21 ہزار مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔مزید برآں، حالیہ مہینوں میں ایران نے کم از کم 8 افراد کو سزائے موت دی جن پر اسرائیل کو ایٹمی سائنسدانوں کے بارے میں معلومات دینے کا الزام تھا۔