فیصل آباد (نمائندہ خصوصی) — فیصل آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 9 مئی 2023 کو سابق وزیرِ داخلہ رانا ثنا اللہ کے گھر پر حملے کے مقدمے کا فیصلہ سنا دیا، جس میں تحریکِ انصاف کی قیادت کے کئی اہم رہنماؤں کو سخت سزائیں دی گئیں۔ عدالت کے مطابق پی ٹی آئی رہنما شبلی فراز، اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور سابق وفاقی وزیر زرتاج گل سمیت کئی رہنماؤں کو 10،10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ اسی طرح کنول شوذب، احمد چٹھہ، رائے حسن نواز، انصر اقبال اور بلال اعجاز کو بھی 10 سال قید کی سزا دی گئی۔ فیصلے کی تفصیلات انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج جاوید اقبال نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ مجموعی طور پر 109 افراد اس کیس میں نامزد تھے، جن میں سے کو سزا اور 34 کو بری کردیا گیا 59 ملزمان کو 10،10 سال قید 16 ملزمان کو 3،3 سال قید دوسری طرف عدالت نے فواد چوہدری اور زین قریشی کو مقدمے سے بری کردیا۔ مقدمے کا پس منظر یہ مقدمہ تھانہ سمن آباد میں درج ہوا تھا، جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ 9 مئی کے واقعات کے دوران فیصل آباد میں رانا ثنا اللہ کے گھر پر حملہ کیا گیا۔ اس کیس میں پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت سمیت 21 رہنماؤں کو نامزد کیا گیا تھا۔ نامزد رہنماؤں میں علی امین گنڈاپور، شاہ محمود قریشی، فرخ حبیب، فیض اللہ کموکا اور دیگر شامل تھے، جبکہ کئی ارکانِ اسمبلی جیسے صاحبزادہ حامد رضا، علی سرفراز، عمر فاروق، خیال کاسترو، شاہد جاوید، لطیف نذر اور اسماعیل سیلا بھی اس مقدمے میں شامل تھے۔ سیاسی ردعمل اور صورتحال عدالتی فیصلے کے بعد سیاسی ماحول میں ایک بار پھر گرماگرمی پیدا ہوگئی ہے۔ تحریکِ انصاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سیاسی انتقام ہے اور عوامی مینڈیٹ کو کچلنے کی کوشش ہے۔ دوسری جانب حکومتی وزراء کا موقف ہے کہ عدالت نے ثبوتوں کی بنیاد پر فیصلہ دیا ہے اور یہ قانون کی بالادستی کا مظاہرہ ہے۔