​سی ٹی ڈی کی بڑی کارروائی: ڈاکٹر عثمان قاضی کا قریبی ساتھی گرفتار

بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے سی ٹی ڈی نے کالعدم تنظیم بی ایل اے اور فتنہ الہندوستان کے ایک اہم رکن، میر خان محمد کو گرفتار کر لیا ہے۔ وہ ڈاکٹر عثمان قاضی کے قریبی ساتھی بتائے جاتے ہیں، جو حال ہی میں کوئٹہ میں ایک خودکش حملہ آور کو تیار کرنے کے الزام میں گرفتار ہوئے تھے۔
ذرائع کے مطابق، میر خان محمد نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی اور بعد میں بلوچستان میں پراسیکیوٹر انسپکٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ان پر یہ الزام ہے کہ وہ ریاستی تنخواہ پر رہتے ہوئے بھی ریاست مخالف سرگرمیوں اور دہشت گردوں کی سہولت کاری میں ملوث تھے۔
اس گرفتاری کے ساتھ ہی، حکام نے میر خان محمد سے تفتیش شروع کر دی ہے۔ یہ انکشاف ہوا ہے کہ وہ درجنوں دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث تھے۔
یہ کارروائیاں انٹیلی جنس معلومات پر مبنی تھیں، جو جولائی کے آخر میں موصول ہوئی تھیں، کہ فتنہ الہندوستان نامی کالعدم تنظیم نے اگست میں کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں دہشت گردی کے حملوں کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس اطلاع پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا۔
اس سے قبل، 11 اگست کو کوئٹہ سے ایک خودکش حملہ آور کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس نے اپنی تفتیش میں انکشاف کیا کہ اسے بیوٹیمز یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عثمان قاضی نے خودکش حملے کے لیے تیار کیا تھا۔ اس معلومات کی بنیاد پر، سیکورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے ڈاکٹر عثمان قاضی کو افنان ٹاؤن سے گرفتار کر لیا تھا۔
یہ گرفتاری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکام بلوچستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔