صوابی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا کہ وہ حالیہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت متاثرہ علاقوں میں بحالی کا کام بھرپور انداز میں کررہی ہے لیکن انسانی جانوں کا ضیاع ناقابلِ تلافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں موسمیاتی تبدیلی جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے بار بار قدرتی آفات جنم لے رہی ہیں۔ ورلڈ بینک نے کلاؤڈ برسٹ کے پیشِ نظر موسمی ریڈارز کے لیے فنڈز دیے تھے مگر 3 سال گزرنے کے باوجود ٹینڈرز مکمل نہیں ہوسکے۔ اسد قیصر نے وفاقی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سمجھ نہیں آتا آخر اتنی غفلت کیوں برتی جارہی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اس معاملے کو اسمبلی میں اٹھائیں گے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کریں گے۔ پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ صوبہ ایک طرف دہشت گردی اور دوسری طرف معاشی بدحالی سے دوچار ہے۔ کاروبار بند ہورہے ہیں، بیروزگاری خطرناک سطح تک بڑھ چکی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاق فوری طور پر نیٹ ہائیڈل منافع اور صوبے کے واجب الادا بقایاجات ادا کرے۔ فاٹا انضمام کے بعد این ایف سی ایوارڈ میں 3 فیصد شیئر کا وعدہ اب تک پورا نہیں ہوا، جس کے باعث صوبہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہے۔ آخر میں اسد قیصر نے کہا کہ سیلاب کے بعد بحالی کے کام مکمل کرکے عوام کو ریلیف دینا ہی اصل ترجیح ہونی چاہیے، اور اس کے لیے سیاست سے بالاتر ہوکر قومی ایجنڈے پر متحد ہونا ہوگا۔