غزہ پر اسرائیلی قبضے کی منصوبہ بندی، فلسطینی نسل کشی جاری

غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے نہتے فلسطینیوں پر جاری مظالم اور نسل کشی کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ اس دوران اسرائیلی آرمی چیف ایال ضامر نے غزہ پر دوبارہ قبضے کے اگلے مرحلے کی منظوری دے دی ہے۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اتوار کو جاری ایک بیان میں ایال ضامر نے کہا کہ غزہ پر حملوں کی شدت میں اضافہ کیا جائے گا اور علاقے پر دوبارہ قبضہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج نے آپریشن گڈیون چاریوٹس کے مقاصد حاصل کر لیے ہیں، جس کا مقصد شمالی غزہ سے فلسطینیوں کو نکالنا اور مقبوضہ علاقوں کو مزید بڑھانا تھا۔ دوسری جانب حماس نے خبردار کیا کہ یہ منصوبہ ایک بڑے پیمانے کی نسل کشی اور جبری ہجرت کا اعلان ہے۔ حماس کے مطابق یہ صہیونی عناد، عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور امریکی پشت پناہی کے تحت جاری 22 ماہ پر محیط جنگِ نسل کشی کا تسلسل ہے۔ حماس نے مزید کہا کہ جنوبی غزہ میں خیمے لگانے کے نام پر کیے جانے والے اقدامات صرف ایک مجرمانہ دھوکہ ہیں، تاکہ بڑے پیمانے پر بے دخلی اور قتلِ عام کو چھپایا جا سکے۔ اس کے علاوہ مغربی کنارے میں روزانہ کی یلغار اور مسلح بستیوں پر حملے بھی اسی منصوبے کا حصہ ہیں۔ حماس نے تاکید کی کہ اسرائیلی حکومت کے عزائم نہ صرف فلسطین بلکہ پورے عالمِ عرب و اسلام کے لیے خطرہ ہیں، اور عرب و اسلامی ممالک پر لازم ہے کہ وہ واضح عملی اقدامات کریں اور فلسطینی عوام اور مزاحمت کا بھرپور ساتھ دیں۔ رپورٹس کے مطابق غزہ کے ایک لاکھ سے زائد بچے شدید نفسیاتی صدمے کا شکار ہیں، جس سے انسانی بحران کی سنگینی واضح ہوتی ہے۔