گلگت بلتستان سے امراضِ نسواں اور ملٹی وٹامنز کی جعلی ادویات پکڑی گئی ہیں، جس کے بعد ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) نے فوری طور پر ریپڈ الرٹ جاری کردیا۔ ڈریپ کے مطابق جی بی ڈرگ، واٹر و فوڈ اتھارٹی نے 4 ادویات کے 4 بیچ جعلی قرار دیے ہیں۔ یہ جعلی ادویات مقامی فارما کمپنیز کے برانڈز کے نام پر تیار کی گئیں اور ان کے لیبلز پر کراچی اور لاہور کے پتے درج کیے گئے تھے۔ ریپڈ الرٹ میں کہا گیا کہ یہ ادویات ڈرگ ایکٹ 1976 کے سیکشن 3 کے تحت جعلی ثابت ہوئی ہیں۔ ان میں شامل ہیں: امراضِ نسواں کی مسرون ٹیبلٹ 10 ایم جی کا جعلی بیچ
- فولک ایسڈ اور وٹامن بی 12 کی کیوٹیفول ٹیبلٹ کا جعلی بیچ
- امراضِ نسواں کی ڈیپاسرون ٹیبلٹ بیچ 2406 جعلی
- امراضِ نسواں کی ڈروپھا ٹیبلٹ 10 ایم جی بیچ DRP 0004 جعلی قرار دی گئی۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیچز غیرقانونی فیکٹریوں میں تیار کیے گئے، جن میں خام مال کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی۔ ان جعلی ادویات کو غیرقانونی طور پر مارکیٹ میں سپلائی کیا گیا۔
ڈریپ نے خبردار کیا ہے کہ ان ادویات کا استعمال جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے، لہٰذا ریگولیٹری فورس کو ہدایت کی گئی ہے کہ فوری طور پر مارکیٹ سے متاثرہ بیچز کو ضبط کیا جائے۔