وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے سوات کے دورے کے دوران پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایسی حکومت نہیں جس کے پاس وسائل کی کمی ہو یا ملازمین کی تنخواہوں کے لیے پیسے نہ ہوں۔ “عوام کو جو بھی ذاتی نقصان پہنچا ہے، ہم ایک ایک فرد کا ازالہ کریں گے۔” ان کا کہنا تھا کہ متاثرین کی بحالی کے لیے کسی سے مدد لینے کی ضرورت نہیں، البتہ اگر کوئی فرض سمجھ کر حصہ لینا چاہے تو دروازے کھلے ہیں۔ “ہم سیلاب سے تباہ ہونے والے گھروں کو دوبارہ تعمیر کریں گے اور اپنے عوام سے کیے گئے وعدے ہر صورت پورے کریں گے۔” وزیراعلیٰ نے کہا کہ قدرتی آفات انسان کے بس سے باہر ہیں، لیکن ہمارا فرض ہے کہ متاثرین کو تحفظ اور سہارا دیا جائے۔ صوبائی حکومت کی پوری ٹیم میدان میں موجود ہے اور کابینہ کے تمام اراکین امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ “ہمارے بہادر ریسکیو ورکرز نے دریاؤں میں کود کر لوگوں اور معصوم بچوں کی جانیں بچائی ہیں۔” علی امین گنڈاپور نے مزید بتایا کہ وزیراعظم اور وفاقی وزراء نے مدد کی پیشکش کی ہے، اور یہ بھی وفاق کی ذمہ داری ہے کہ وہ مشکل وقت میں سہارا دے۔ “ہمیں امید ہے کہ وفاقی حکومت اپنی ذمہ داری سمجھے گی اور بھرپور تعاون کرے گی۔” تجاوزات کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ڈی آئی خان میں جس طرح آپریشن ہوا، وہ پورے ملک کے لیے ایک مثال ہے، لیکن جب بھی قدم اٹھایا جاتا ہے تو عدالت سے اسٹے آرڈر آجاتا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ قبضوں اور غیر قانونی تعمیرات سے گریز کریں اور حکومت کا ساتھ دیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ریسکیو آپریشن جاری ہیں، تمام راستے بحال کر دیے گئے ہیں، جبکہ سب سے زیادہ نقصان بونیر میں ہوا ہے جہاں پانی کے راستوں میں تعمیرات کے باعث صورتحال مزید خراب ہوئی۔ “ہمارے کچھ علاقے ابھی بھی الرٹ پر ہیں۔” واضح رہے کہ این ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں حالیہ طوفانی بارشوں، کلاوڈ برسٹ اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث 328 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔