تفصیلات کے مطابق حافظ آباد میں ایک لرزہ خیز واقعہ پیش آیا، جہاں محمد حسین، جو محض ڈیڑھ ماہ قبل اسپین سے ایک مقدمے میں شامل تفتیش ہونے کے لیے واپس آیا تھا، اپنے دو ساتھیوں سمیت فائرنگ کا نشانہ بن گیا۔
یہ افسوسناک واقعہ اسد اللہ پور کے قریب دیرینہ دشمنی کے باعث پیش آیا۔ ملزمان نے اندھا دھند فائرنگ کے بعد تینوں افراد کو قتل کیا اور لاشوں کو مسخ کرنے کے لیے گاڑی سمیت آگ کے حوالے کر دیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق محمد حسین دفعہ 109 کے تحت “مشورہ قتل” کے مقدمے میں نامزد تھا اور وہ 14 جولائی تک عبوری ضمانت پر تھا۔ محمد حسین پہلے بھی سنگین حالات کا سامنا کر رہا تھا۔ گزشتہ سال اس کے گھر کو لوٹنے کے بعد مسمار کر کے آگ لگا دی گئی تھی، تاہم پولیس نے کوئی کارروائی نہ کی۔ کچھ روز قبل محمد حسین نے پولیس کو اطلاع دی تھی کہ ایک گاڑی (ATU 798) اس کا مسلسل پیچھا کر رہی ہے۔ اس حوالے سے اس نے ایک مقامی صحافی کو واٹس ایپ پیغام بھی بھیجا، لیکن پولیس نے پھر بھی کوئی قدم نہ اٹھایا۔ چند دن پہلے بھی اس پر فائرنگ ہوئی، جس میں وہ معجزانہ طور پر بچ گیا۔ تاہم گزشتہ شام وہ اپنے ساتھیوں سمیت وحشیانہ حملے کا شکار ہو گیا، اور سفاک ملزمان نے قتل کے بعد گاڑی کو جلا کر لاشوں کو مسخ کر دیا۔