کیا چیف الیکشن کمشنر پر لگائے گئے الزامات غلط تھے؟

سپریم جوڈیشل کونسل نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اور الیکشن کمیشن کے دو ممبران نثار احمد درانی اور شاہ محمد جتوئی کے خلاف دائر کی گئی شکایات کو خارج کر دیا ہے۔ یہ شکایات پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے دائر کی گئی تھیں۔

کونسل کے ایک اعلامیے کے مطابق، 8 نومبر اور 13 دسمبر 2024 کو منعقد ہونے والے اجلاسوں میں ان شکایات کا جائزہ لیا گیا اور انہیں خارج کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

پی ٹی آئی کے الزامات

پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل عمر ایوب نے بیرسٹر علی ظفر کے ذریعے 27 جولائی 2024 کو یہ شکایات دائر کی تھیں، جن میں کہا گیا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر اور دیگر ارکان نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا ہے اور وہ اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

شکایات میں الزام لگایا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن صاف اور شفاف انتخابات کرانے میں ناکام رہا۔ پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا تھا کہ:

  • انتخابات کے دوران ان کے پولنگ ایجنٹس کو پولنگ اسٹیشنز سے باہر نکال دیا گیا۔
  • الیکشن کمیشن نے قانون کے مطابق نتائج جاری نہیں کیے۔
  • انتخابی مہم کے دوران پی ٹی آئی کی میڈیا کوریج پر پابندی عائد کی گئی، لیکن الیکشن کمیشن نے کوئی کارروائی نہیں کی۔
  • امیدواروں سے ان کے کاغذات نامزدگی چھینے گئے اور کارکنان کو اغوا کیا گیا۔

ان تمام الزامات پر سپریم جوڈیشل کونسل نے گہرائی سے جائزہ لیا اور آخرکار ان شکایات کو بے بنیاد قرار دے کر خارج کرنے کا فیصلہ کیا۔