کراچی کے علاقے ڈیفنس خیابانِ مجاہد میں 14 اگست کو پیش آنے والے ایک انتہائی افسوسناک واقعے نے سب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ایک ماں، ادیبہ نے اپنے دو معصوم بچوں کو تیز دھار آلے سے گلا کاٹ کر بے دردی سے قتل کر دیا۔ پولیس نے ملزمہ کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے۔
تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ ادیبہ اور اس کے سابق شوہر غفران میں 2024 میں طلاق ہو گئی تھی، اور بچوں کی حوالگی کا معاملہ چل رہا تھا۔ اس سفاکانہ قتل کے بعد، ادیبہ نے اپنے شوہر کو ایک دل دہلا دینے والا وائس میسج بھیجا، جس میں اس نے کہا، “اب تم خوش ہو جاؤ، تمہاری وجہ سے کیا ہوا ہے؟؟؟”
جشنِ آزادی کے لیے معصوموں کی تیاریاں
اے آر وائی نیوز کی ابتدائی تفتیش کے مطابق، قتل ہونے والے معصوم بچے ضرار اور سمیہا یوم آزادی بھرپور طریقے سے منانا چاہتے تھے۔ سمیہا نے تو اپنی ماں سے “ایسی زمیں اور آسماں” والا گانا بھی سیکھا تھا۔ قتل سے کچھ دیر پہلے ہی ان کے والد غفران نے اپنی سابقہ بیوی کی فرمائش پر دونوں بچوں کے لیے یوم آزادی کے کپڑے بھی خریدے تھے۔
ماں اور باپ کے درمیان آخری گفتگو
پولیس کی تفتیش میں ادیبہ اور غفران کے درمیان ہونے والی واٹس ایپ گفتگو بھی سامنے آئی ہے، جو ان بچوں کی معصوم خواہشوں اور ان کے والدین کے درمیان کشمکش کو ظاہر کرتی ہے۔
- ادیبہ نے واٹس ایپ پر غفران سے پوچھا: “کیا ضرار کے پاس شلوار قمیض ہے؟ کیا سمیہا کو بتایا کہ اسے کل کیا پہننا ہے؟”
- غفران نے بچوں کی تصاویر بھیجیں: والد نے بچوں کو تیار کر کے تصاویر بھیجیں، جس پر ادیبہ نے کہا، “ماشاء اللہ، یہ کب تیار ہوئے؟ ضرار کی ٹوپی کہاں ہے؟”
- گانوں اور رقص کی باتیں: غفران نے کہا کہ سمیہا کو کہنا کہ وہ “ایسی زمیں اور آسماں” گائے، تو ماں نے جواب دیا کہ “میں نے اسے سکھا دیا ہے۔” اس نے یہ بھی کہا کہ وہ گانے پر رقص بھی کرتی ہے، جس پر ادیبہ نے کہا کہ اس نے رقص نہیں سکھایا۔
یہ تمام گفتگو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان معصوموں نے اپنی آخری تیاریوں کو خوبصورت بنانے کی کوشش کی تھی، لیکن شاید وہ اپنی ماں کے ذہن میں چلنے والی کشمکش سے واقف نہیں تھے۔ یہ واقعہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ طلاق کے بعد بچوں کی حوالگی کے مسائل اور آپسی رنجشیں بعض اوقات کس قدر سنگین اور دردناک نتائج کا سبب بن سکتی ہیں۔