یومِ آزادی کے موقع پر لاہور کے ایکسپو سینٹر میں منعقدہ “میرا برانڈ پاکستان ایکسپو 2025” میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے شرکت کی۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اہم قومی اور معاشی مسائل پر بات کی۔
حقیقی آزادی اور معاشی خود مختاری کا مطالبہ
حافظ نعیم نے کہا کہ ہمیں ایسی آزادی چاہیے جس میں ہم اپنی پالیسیاں خود بنا سکیں اور اپنی قوم کو آگے بڑھا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان ہمارے ملک کا مستقبل ہیں اور ہماری معیشت کو آئی ایم ایف کی غلامی سے آزاد ہونا چاہیے۔
اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ اور پاکستانی برانڈز کو فروغ
فلسطین کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب اسرائیل فلسطین میں بے گناہ لوگوں کا قتل عام کر رہا ہے تو ہمیں اس کی مصنوعات کیوں خریدنی چاہییں؟ انہوں نے پاکستانیوں سے اپیل کی کہ وہ پاکستانی برانڈز کو فروغ دیں تاکہ ملک کی معیشت مضبوط ہو سکے۔
معاشی ترقی اور جاگیرداری نظام کی مخالفت
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ابوزر شاد اور پیاف کے پیٹرن ان چیف انجم نثار نے یہ عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ 200 ارب ڈالر حاصل کریں گے اور ملک کا قرضہ اتاریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی مصنوعات کے ذریعے پاکستان کی تقدیر بدل سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ رشوت ستانی کو ختم کیا جائے جو ہر سال ایک ہزار ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے جاگیردارانہ اور خاندانی سیاست پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ان لوگوں نے ملک پر جابرانہ نظام مسلط کر رکھا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بہت جلد پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک حقیقی فلاحی اسلامی ریاست کے طور پر ابھرے گا۔