چیف جسٹس کا جوابی خط دراصل جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر کے 31 اکتوبر کے اجلاس کے منٹس پر لکھا گیا تھا۔ دونوں ججوں نے 26 ویں آئینی ترمیم کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت کے لیے فل کورٹ تشکیل دینے کا مطالبہ کیا تھا، تاکہ آرٹیکل 184 کی شق 3 کے تحت اس کی تشریح کی جا سکے۔ چیف جسٹس نے اپنے خط میں اس حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ انہوں نے 13 ججوں کی ذاتی رائے لی ہے۔ ان میں سے 9 ججوں کا مؤقف تھا کہ اس معاملے کو آئینی بینچ کے سامنے مقرر کیا جائے۔ چیف جسٹس نے ان دونوں ججوں کو ان حقائق اور 13 ججوں کے نقطہ نظر سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بطور چیف جسٹس فل کورٹ اجلاس بلانا مناسب نہیں سمجھا، کیونکہ ان کے خیال میں ایسا کرنے سے ججوں کے درمیان باہمی روابط کی روح مجروح ہوتی اور عدالت عوامی تنقید کا نشانہ بھی بن سکتی تھی، جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے۔
دیگر اہم اجلاسوں کی تفصیلات
- 26 نومبر 2024: ججز ریگولر کمیٹی اجلاس اور ٹیکس کیس سے متعلق میٹنگ منٹس جاری ہوئے۔
- 17 جنوری 2025: ریگولر ججز کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ جسٹس امین الدین اور رجسٹرار نے شرکت کی۔ چیف جسٹس نے پرائیویٹ سیکرٹری کے ذریعے جسٹس منصور علی شاہ کو آگاہ کیا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے بتایا کہ وہ دستیاب نہیں ہیں اور اپنی رائے پہلے ہی 13 اور 16 جنوری کو دے چکے ہیں۔
- ٹیکس کیس پر فیصلہ: اجلاس میں دو ممبران کی اکثریت سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ ٹیکس کیس کی سماعت ریگولر بینچ کے بجائے آئینی بینچ میں کی جائے گی۔ اس سے قبل یہ کیس ریگولر بینچ میں سنا جا رہا تھا۔