پاکستان ریلوے میں جدیدیت کا انقلاب: نئے منصوبوں کا آغاز

وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے پاکستان ریلوے کو جدید بنانے کے لیے کئی بڑے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ فیصل آباد ریلوے سٹیشن کے دورے کے دوران انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کے وژن کے تحت ریلوے کے آپریشنز کو جدید بنانے کے لیے مختصر اور طویل المدتی منصوبوں پر تیزی سے کام ہو رہا ہے۔

اہم منصوبے اور ان کی تفصیلات

  • نئے ریلوے اسٹیشنز: سندھ حکومت کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت روہڑی ریلوے اسٹیشن کو لاہور کے ماڈل پر اپ گریڈ کیا جائے گا۔ جبکہ کراچی میں ایک جدید طرز کا اسٹیشن 10 ستمبر کو افتتاح کے لیے تیار ہو جائے گا۔
  • ٹریک کی اپ گریڈیشن: سبی سے روہڑی تک 250 کلومیٹر اور روہڑی سے کراچی تک 480 کلومیٹر کے ٹریک کی فیزیبلٹی رپورٹ اگلے دو ماہ میں مکمل ہو جائے گی۔ اس کے بعد، اگلے سال جون تک ان پر تعمیر کا کام شروع ہونے کی امید ہے۔
  • ریلوے کی ڈیجیٹلائزیشن: ریلوے کا پورا ٹکٹنگ سسٹم اب آن لائن ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ، ٹرین ٹریکنگ سسٹم بھی فعال ہے، اور بڑے اسٹیشنز پر اے ٹی ایم مشینیں بھی لگائی گئی ہیں۔ پنجاب حکومت کے تعاون سے 40 ریلوے اسٹیشنز پر وائی فائی کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے جس کا آغاز لاہور سے ہو چکا ہے اور جلد ہی یہ کراچی، حیدرآباد، فیصل آباد اور دیگر شہروں تک پھیل جائے گی۔
  • آؤٹ سورسنگ: ادارے کی آمدنی بڑھانے اور سروسز کا معیار بہتر کرنے کے لیے 30 ستمبر تک ریلوے کی آؤٹ سورسنگ کا عمل مکمل کر لیا جائے گا۔ اس میں 9 سے 11 مسافر ٹرینیں، فریٹ ٹرینیں، گیسٹ ہاؤسز، اسپتال، اسکولز اور دیگر سہولیات نجی شعبے کے حوالے کی جا رہی ہیں۔
  • دیگر ترقیاتی کام: شاہدرہ سے رائیونڈ تک 2 ارب 35 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک لینیئر پارک کی تعمیر شروع ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ، کراچی، لاہور، راولپنڈی اور ٹیکسلا کے اسٹیشنز کی اپ لفٹنگ اور بلوچستان میں شیخ زید سے کچلاک تک 50 کلومیٹر سیکشن کی اپ گریڈیشن بھی شامل ہے۔