وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے حال ہی میں ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے اپنی حکومت کی کارکردگی اور درپیش چیلنجز پر روشنی ڈالی۔
مالی کارکردگی اور ترقی کا دعویٰ
علی امین گنڈاپور نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی حکومت نے صرف 17 ماہ میں 250 ارب روپے سے زائد آمدنی حاصل کی ہے جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔ ان کے مطابق، جب انہوں نے حکومت سنبھالی تو صوبہ قرضوں میں ڈوبا ہوا تھا اور تنخواہیں بھی ادا کرنا مشکل تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب انہوں نے صوبے کو مالی تباہی سے نکال کر ترقی کی راہ پر ڈال دیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے مزید بتایا کہ قرضوں کی ادائیگی کے لیے 190 ارب روپے کا انڈومنٹ فنڈ قائم کیا گیا ہے اور ان کا ہدف 300 ارب روپے ہے۔
شفافیت، عوامی خدمت اور سیکورٹی
علی امین کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا اب شفافیت، عوامی خدمت اور ترقی کے لحاظ سے ملک بھر میں ایک مثال بن چکا ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خاتمے اور عوام کا اعتماد بحال کرنے کو اپنی سب سے بڑی ترجیح قرار دیا۔
سیاسی انتقام اور دیگر معاملات
انہوں نے موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی بات کی اور کہا کہ عوامی نمائندوں کو بلاوجہ نااہل کر کے ان کے حقوق چھینے جا رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سابق حکومتوں کی کرپشن کو اب ان کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کوہستان اسکینڈل کو وفاق کا معاملہ قرار دیا اور کہا کہ اس کا الزام ان پر غلط طور پر ڈالا جا رہا ہے۔
جرگہ سسٹم اور حکمت عملی
انہوں نے واضح کیا کہ پولیس اور فوج کے شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے جرگوں کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جائے گا اور عوام کی رائے کو فیصلہ کن حیثیت دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ انتقامی کارروائیاں زوروں پر ہیں مگر وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔