کوئٹہ میں تعلیم کے میدان سے ایک افسوسناک حقیقت سامنے آئی ہے، جہاں 18 سرکاری اسکولوں پر بااثر افراد نے قبضہ جما رکھا ہے۔ یہ انکشاف سامنے آتے ہی محکمہ تعلیم میں کھلبلی مچ گئی ہے۔
اس معاملے پر فوری ایک اجلاس بلایا گیا جس کی صدارت ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی نے کی۔ اجلاس میں ضلع اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی، جہاں متعلقہ حکام نے اسکولوں کی عمارتوں پر ہونے والے ناجائز قبضوں کی تفصیلی رپورٹ پیش کی۔
ڈی سی کوئٹہ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ افسران کو فوری طور پر قبضے ختم کروانے کے احکامات جاری کیے اور آئندہ ہفتے تک مکمل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
یہ صورتحال خاص طور پر تشویشناک ہے کیونکہ بلوچستان پہلے ہی پاکستان کے سب سے پسماندہ صوبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں تعلیم کی شرح دیگر صوبوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ ایسے میں اسکولوں کی عمارتوں پر قبضہ صرف عمارتوں پر نہیں بلکہ بچوں کے مستقبل پر قبضہ ہے۔