شہید اللہ بخش سومرو (سيبس) یونیورسٹی آف آرٹ، ڈیزائن اینڈ ہیریٹیجز، جامشورو کی جانب سے آرٹ کے ذریعے نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے ایک منفرد اقدام کے تحت سینٹرل جیل حیدرآباد میں “نوجوانوں کو آرٹ کے ذریعے بااختیار بنانا” کے عنوان سے وال پینٹنگ کی سرگرمی کا انعقاد کیا گيا۔ نابالغ قيديوں کے ليے منعقده یہ تقریب پاکستان کے یوم آزادی اور آپریشن بُنیان المرصوص اور معرکہء حق کی یاد میں جاری تقریبات کے سلسلے کے طور پر منعقد کی گئی۔ وال پینٹنگ کی سرگرمی نے طلباء اور نوعمر قیدیوں کو ایک باہمی آرٹ کے تجربے میں اکٹھا کیا جو تخلیقی صلاحیتوں اور ان کے اظہار کو بڑھانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ طلباء کی قیادت شعبہ فائن آرٹ کے چیئرپرسن فضل الٰہی خان کے ساتھ کیوریٹر کاشف شہزاد اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کيو اِی سِی ذوالقرنین بھٹو نے کی۔ وائس چانسلر، سيبس یونیورسٹی جامشورو، پروفیسر ڈاکٹر ارابیلا بھٹو نے طلباء اور نوعمر قیدیوں کی براهِ راست فنکارانہ صلاحيات کو دیکھنے کے لیے جیل کا خصوصی دورہ کیا۔ جیل حکام سپرنٹنڈنٹ یوتھ فل آفنڈرز انڈسٹریل سکول، سید ندیم اختر اور پراجیکٹ ڈائریکٹر جیل ورکس سندھ قاضی عاصم، کے ہمراہ ڈاکٹر بھٹو نے طلباء اور قیدیوں سے بات چیت کی، ان کی تخلیقی صلاحیتوں اور اس طرح کے اقدامات کو سراہا۔ ڈاکٹر بھٹو نے اپنے دورے کے دوران کہا کہ یہ اقدام سماجی ذمہ داری کے تحت یونیورسٹی کے عزم اور قيديوں کی اخلاقی بحالی اور قومی فخر میں آرٹ کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو بااختیار بنانا، وہ جہاں کہیں بھی تخلیقی صلاحيات کے ساتھ ہوں، ایک زیادہ جامع اور اظہار پر مبنی معاشرے کی تعمیر کی جانب ایک قدم ہے۔ جیل حکام اور شرکاء نے نو عمر قيديوں کی اخلاقی بحالی، نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور قومی فخر میں فن کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے اس سرگرمی کو بڑے پیمانے پر سراہا۔