سندھ کے ضلع دادو کے علاقے کے این شاہ کے قریب گاؤں چھپر خان گاڈھی میں سندھیانی تحریک اور ایس جی ایس ٹی کی جانب سے ایک روزہ تعلیمی و تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس میں دیہی عورتوں کو درپیش مسائل پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی۔
ورکشاپ میں گفتگو کے اہم موضوعات میں شامل تھے:
- سندھیانی تحریک کی تاریخی جدوجہد
- دیہی عورتوں پر ہونے والے مظالم
- بچیوں کی تعلیم کی رکاوٹیں
- کارپوریٹ فارمنگ اور ڈیموں کے منصوبے
- سندھ کے وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم
ورکشاپ میں کئی اہم شخصیات نے لیکچرز دیے۔
عوامی تحریک کی مرکزی جوائنٹ سیکریٹری ماہ نور ملاح نے “سندھ میں طبقاتی اور قومی جدوجہد میں سندھیانی تحریک کے کردار” پر بات کی، جبکہ بختاور ملاح نے “سندھ میں خواتین کی تعلیمی صورتحال” پر روشنی ڈالی۔
ایڈووکیٹ کائنات ڈاھری نے “طالبات کی سیاست میں شمولیت کیوں ضروری ہے؟” کے موضوع پر خطاب کیا اور ثمرین خاصخیلی نے دیہی خواتین کو درپیش مسائل پر مدلل گفتگو کی۔ سندھیانی تحریک کی رہنما حوا خاتون نے خواتین پر ہونے والے مظالم — جیسے ونی، وٹہ سٹہ، غیرت کے نام پر قتل، اور کم عمری کی شادیاں — پر کھل کر آواز بلند کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان مظالم کے خلاف قوانین تو موجود ہیں مگر ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ رہنماؤں نے زور دیا کہ تعلیم اور آگاہی ہی وہ راستہ ہے جس سے ایک باخبر، بیدار اور انصاف پر مبنی معاشرہ قائم ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر دیہی علاقوں کی لڑکیوں کے لیے تعلیم کے مواقع پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ورکشاپ کے اختتام پر رہنماؤں نے عزم ظاہر کیا کہ سندھیانی تحریک صرف سندھ کی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی خواتین کی آواز ہے، جو آمریتوں، جبر، اور استحصالی نظام کے خلاف ہمیشہ میدان میں رہی ہے۔ تحریک نے ایم آر ڈی جیسے اہم سیاسی مراحل میں تاریخی کردار ادا کیا اور آج بھی رسول بخش پلیجو کے نظریات کی روشنی میں سندھ کے حقوق کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ کارپوریٹ فارمنگ، ڈیموں اور نہروں کے منصوبے سندھ کی زمین، پانی اور وسائل پر حملہ ہیں، جن کے خلاف یہ جدوجہد جاری رہے گی۔