مارکیٹ میں چینی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ ہول سیل ریٹ 174 روپے فی کلو سے تجاوز کر چکا ہے، جبکہ تاجروں کو حکومت کی جانب سے اسے 170 روپے فی کلو میں بیچنے کی ہدایت دی جا رہی ہے۔ تاجر واضح کر چکے ہیں کہ جب چینی مہنگے داموں خریدی جا رہی ہے تو وہ سرکاری نرخ پر کیسے فروخت کریں؟ دوسری جانب، شوگر ملز ایسوسی ایشن کا دعویٰ ہے کہ تمام ملیں چینی کو 165 روپے فی کلو ایکس مل ریٹ پر فراہم کر رہی ہیں، اور ملک میں وسط نومبر 2025 تک چینی کے وافر ذخائر موجود ہیں۔ ایسوسی ایشن کا موقف ہے کہ چینی کی ریٹیل قیمت مارکیٹ فورسز کے تحت طے ہونی چاہیے، مگر حکومت جبراً قیمت مقرر کر رہی ہے۔ مزید یہ کہ ڈیلرز اور سٹہ مافیا چینی کو گھریلو صارفین کے بجائے زیادہ منافع کے لیے صنعتی اداروں کو فروخت کر رہے ہیں، جس سے مارکیٹ میں مصنوعی قلت کا تاثر پیدا ہو رہا ہے۔ ملز مالکان کا یہ بھی کہنا ہے کہ برآمدات کو قیمتوں کے ساتھ جوڑنا غیر منطقی ہے کیونکہ پیداواری لاگت میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ پچھلے کچھ سالوں میں کئی شوگر ملز بند ہو چکی ہیں اور 12 ملز فروخت کے لیے دستیاب ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کیا جائے تاکہ حالات میں بہتری آ سکے۔ دوسری جانب حکومت نے چینی درآمد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، لیکن یہاں بھی مسئلہ پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ 3 لاکھ ٹن چینی کی ٹیکس فری امپورٹ پر آئی ایم ایف نے اعتراض اٹھا دیا ہے، حالانکہ وفاقی کابینہ پہلے ہی 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کی منظوری دے چکی ہے۔ ابتدائی مرحلے میں 3 لاکھ ٹن لائی جانی ہے، لیکن حکومت براہ راست امپورٹ کی خواہش مند ہے کیونکہ نجی شعبہ یہ ذمے داری نبھا نہیں سکتا۔